جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے کا مغربی روٹ ترجیحی بنیاد پرمکمل کرنے کا فیصلہ

datetime 16  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت صوبائی حکومتوں کے مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبوں کی مشاورت سے راہداری منصوبے کا مغربی روٹ جولائی 2018 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ وزیراعظم کی زیر صدارت سیاسی قائدین کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل مغربی روٹ کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اور2018 کے وسط تک اس کی تکمیل کو ممکن بنایا جائے گا اورضرورت پڑنے پراس روٹ کے لئے فنڈزمیں 40 ارب روپے کااضافہ بھی کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویزخٹک ، عوامی نیشنل پارٹی سمیت صوبے کی دیگر جماعتوں کے نمائندوں نے شکوہ کیا کہ منصوبے سے متعلق وزیراعظم نے گزشتہ برس مغربی روٹ پہلے بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن رواں مالی سال کے بجٹ میں صرف مشرقی روٹ کے لیے رقم مختص کی گئی جس پر وزیراعظم نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ باہمی مشاورت کے ساتھ ہی منصوبے کو مکمل کیا جائے گا جس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے اقتصادی راہداری منصوبے کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔سیاسی قائدین کے اجلاس کے اعلامیئے کے مطابق اقتصادی راہداری منصوبے کا مغربی روٹ 4 رویہ ایکسپریس وے پرمشتمل ہوگا اورموٹروے کے حصول کے لئے زمین کی ذمہ داری خیبرپختونخواہ حکومت کی ہوگی، مغربی روٹ پرپہلے مرحلے میں 4 لین بنائی جائے گی اوربعد میں وفاقی حکومت کی جانب سے زمین کی خریداری کے بعد اسے 6 رویہ بنا دیا جائے جب کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اقتصادی اورصنعتی زون کے قیام پرصوبوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے مختصربیان میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے پر جاری ترقیاتی کام کا جائزہ لینے کے لئے وزیراعظم کی صدارت میں اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں اور یہ کمیٹی ہر3 ماہ بعد منصوبے پرہونے والی پیش رفت کا جائزہ لے گی جب کہ صوبوں کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے لئے وزارت منصوبہ بندی میں سیل کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت صوبائی حکومتوں کے مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبوں کی مشاورت سے راہداری منصوبے کا مغربی روٹ جولائی 2018 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ وزیراعظم کی زیر صدارت سیاسی قائدین کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل مغربی روٹ کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اور2018 کے وسط تک اس کی تکمیل کو ممکن بنایا جائے گا اورضرورت پڑنے پراس روٹ کے لئے فنڈزمیں 40 ارب روپے کااضافہ بھی کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویزخٹک ، عوامی نیشنل پارٹی سمیت صوبے کی دیگر جماعتوں کے نمائندوں نے شکوہ کیا کہ منصوبے سے متعلق وزیراعظم نے گزشتہ برس مغربی روٹ پہلے بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن رواں مالی سال کے بجٹ میں صرف مشرقی روٹ کے لیے رقم مختص کی گئی جس پر وزیراعظم نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ باہمی مشاورت کے ساتھ ہی منصوبے کو مکمل کیا جائے گا جس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے اقتصادی راہداری منصوبے کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔سیاسی قائدین کے اجلاس کے اعلامیئے کے مطابق اقتصادی راہداری منصوبے کا مغربی روٹ 4 رویہ ایکسپریس وے پرمشتمل ہوگا اورموٹروے کے حصول کے لئے زمین کی ذمہ داری خیبرپختونخواہ حکومت کی ہوگی، مغربی روٹ پرپہلے مرحلے میں 4 لین بنائی جائے گی اوربعد میں وفاقی حکومت کی جانب سے زمین کی خریداری کے بعد اسے 6 رویہ بنا دیا جائے جب کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اقتصادی اورصنعتی زون کے قیام پرصوبوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے مختصربیان میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے پر جاری ترقیاتی کام کا جائزہ لینے کے لئے وزیراعظم کی صدارت میں اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں اور یہ کمیٹی ہر3 ماہ بعد منصوبے پرہونے والی پیش رفت کا جائزہ لے گی جب کہ صوبوں کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے لئے وزارت منصوبہ بندی میں سیل کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…