جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

راولپنڈی، اسلام آباد اور ملتان میں سوائن فلو پھیل گیا ،مزید3 جاں بحق

datetime 14  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جڑواں شہروں میں سوائن فلو پھیلنا شروع ہو گیا ،مزید3افراد جاں بحق ہو گئے ،13مریضوں میں بیماری کی تشخیص ہو گئی ،پمز میں دو بیڈز پرمشتمل آئسولیشن وارڈ قائم کردیا گیا جبکہ ملتان میں سوائن فلو سے متاثرہ پانچ مریضوں کو نشتر ہسپتال داخل کر دیا گیا ہے ،ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد24 ہوگئی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سوائن فلو کا مرض ملک کے دیگر حصوں کی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی پہنچ گیا۔ جڑواں شہروں میں اب تک تین مریض سوائن فلو کے ہاتھوں زندگی ہار چکے ہیں جبکہ مزید تیرہ مریضوں میں تشخیص ہو چکی ہے۔ پمز اسپتال میں سوائن فلو کے مریضوں کیلئے دو بیڈز پر مشتمل آئسو لیشن وارڈ قائم کر دیا گیا ہے جبکہ پولی کلینک اسپتال میں سوائن فلو کے حوالے سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ ادھر ترجمان پمز اسپتال کا کہنا ہے کہ اسپتال میں سوائن فلو سے متاثرہ کوئی مریض نہیں لایا گیا تاہم اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں سوائن فلو کے شبہ میں مریض لایا گیا۔ مریض کے نمونے تشخیص کے لیے قومی ادارہ صحت بھجوا دیئے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قومی ادارہ صحت میں پشاور، اسلام آباد، راولپنڈی ، لاہور اور ملتان سے سوائن فلو کی تشخیص کے زیادہ نمونے لائے گئے ہیں۔ قومی ادارہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سوائن فلو سے متاثرہ افراد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب ملتان میں سوائن فلو سے متاثرہ مزید پانچ مریضوں کو نشتر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ جس کے بعد وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 24 ہو گئی ہے۔خیبر پختونخواہ کے علاقے ڈیرہ اسماعیل کی 40 سالہ عرفہ، 35 سالہ سلطان، سرگودھا کی 39 سالہ شہناز، جام پاور کی 10 سالہ اقرا جبکہ ڈیرہ غازی خان کی 50 سالہ عطیہ کو سوائن فلو کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد ملتان کے نشتر اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔ جس کے بعد وائرس سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 24 ہو گئی ہے۔ نئے داخل کرائے گئے مریضوں میں سے 3 میں سوائن فلو کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ باقی مریضوں کی ٹیسٹ رپورٹ ا?نا باقی ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سوائن فلو وائرس سے ملتان میں 3 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…