جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

کالعدم تنظیموں کے خلاف پنجاب میں بھی رینجرز کی تعیناتی پر غور

datetime 14  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) صوبہ پنجاب میں بھی سندھ کی طرز پر کالعدم تنظیموں اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف آپریشن کے لیے رینجرز کی تعیناتی کا معاملہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے زیرِغور ہے۔ پنجاب میں رینجرز آپریشن کی تجویز ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبے میں رینجرز کی تعیناتی کا معاملہ سب سے پہلے صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں زیر غور آیا اور اب یہ معاملہ وزیر اعظم آفس پہنچ چکا ہے۔ذرائع کے مطابق سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ پنجاب پولیس کے پاس دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے تربیت اور وسائل کی کمی ہے، جس کے باعث یہ کام اب رینجرز کے حوالے کیا جانا چاہیے۔تاہم صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر وسائل فراہم کیے جائیں تو دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے پولیس کے شعبہ انسداد دہشت گردی اور ایلیٹ فورسز کارگر ثابت ہوسکتی ہیں۔ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا یہ بھی ماننا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی ضروری ہے۔گزشتہ روز وزیراعظم کی زیر صدارت اعلی سطح کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور کور کمانڈر لاہور نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں فوجی قیادت کی جانب سے کہا گیا کہ اگر پنجاب حکومت چاہے تو صوبے میں آپریشن کے لیے رینجرز کو تعینات کیا جاسکتا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کے قریبی ساتھی نے بتایا کہ پنجاب کے جن اضلاع میں آپریشن کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ان میں رحیم یار خان، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان شامل ہیں۔یہ اضلاع دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔حکمراں جماعت کے ذرائع کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت پہلے ایلیٹ فورس کے ذریعے مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کرے گی، کیونکہ اگر رینجرز کو طلب کیا جاتا ہے تو اس سے صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے غلط تاثر جائے گا۔ذرائع نے کہا کہ اگر رینجرز کو پنجاب میں طلب کیا گیا تو اسے کراچی والے اختیارات ہی حاصل ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…