جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پرائیویٹ ہاﺅسنگ سوسائیٹوں میں رہنے والوں کے لئے بڑی خبرآگئی ،حکومتی وزیرکے بیان نے ہلچل مچادی

datetime 11  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اسلام آباد میں غیر قانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے معاملے کو قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے حوالے کرتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی جبکہ وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری نے ایوان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ سی ڈی اے پراﺅیٹ ہاﺅسنگ سوسائٹیوں میں عوامی سہولیات کی فراہمی کیلئے بھر پور اقدامات اٹھائے گا۔ پیر کو سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے تحریک پیش کی کہ یہ ایوان اسلام آباد میں کو آپریٹو سوسائٹیوں کے امور بالخصوص انکی جانب سے منصوبہ بندی اور کمیونٹی سروسز کیلئے اراضی کی تخصیص کے معاملے میں کی گئی خلاف ورزیوں پر بحث کرے۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ پراﺅیٹ سوساٹیاں سکول کالج ہسپتال کمیونٹی ویلفیئر اور قبرستانوں کیلئے جگہ مختص نہیں کرتی نقشے میں ہوتی ہیں لیکن بعد میں انہیں کمرشل کر دیا جاتا ہے بے شمار ہاﺅسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی ہیں لوگوں کو دھوکہ دے کر پیسے بٹورے جاتے ہیں تین سال کا کہہ کر 12-12 سال ڈویلپمنٹ نہیں کرتے اخبارات میں اشتہار دے کر بکنگ شروع کر دیتے ہیں این او سی کے بغیر ہی سوسائٹیاں بنائی جاتی ہیں اور متعلقہ حکام خاموش رہتے ہیں ۔ پارلیمان کے نام پر بھی سکیمیں شروع کی گئیں متعلقہ حکام ان سوسائٹیز کو پابند کریں کے وہ عوام کو کمیونٹی سروسز لازمی فراہم کریں ۔ بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سی ڈی اے کے سیکٹرز میں کوئی بے قاعدگی نہیں ہوئی دیہی علاقوں میں دو کمان سسٹم ہیں ۔ اسلام آباد کو پانچ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں تین دیہی اور دو شہری ہیں ہر سوسائٹی میں چار فیصد زمین سکولوں کیلئے دو فیصد قبرستانوں کیلئے اور 8 فیصد پارک کیلئے متخص کرنا ضروری ہے اس کے بعد ہی سی ڈی اے سوسائٹی کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی فروخت شروع کرے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان تمام معاملات کی کوئی ایک محکمہ ذمہ داری لے ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ پرائیویٹ سوساٹیوں میں کمیونٹی سروسز کو لازمی بنائی جائے ۔ بعدازاں چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے معاملے کو قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کرتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…