منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے ڈیزائنر بچے پیدا ہونے کی خوشخبری دیدی

datetime 19  جنوری‬‮  2015 |

لندن۔۔۔۔برطانیہ میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ڈی این اے میں تبدیلی کی سہولتوں میں ترقی کے سبب اس بات کا امکان روشن ہو گیا ہے کہ ڈیزائنر بچے پیدا ہو سکیں۔انھوں نے عوام اور ضابطہ کاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بچے کے لیے تیار رہیں۔ان کی یہ دلیل ہے کہ ان جینیاتی تبدیلیوں سے بعض بیماریوں سے نجات پانے میں مدد ملے گی۔ڈاکٹر ٹونی پیری جو اس ٹیم کا حصہ رہے ہیں جس نے پہلے چوہوں اور پھر خنزیر کی کلوننگ کی تھی ان کا کہنا ہے کہ ’جینیات کے شعبے میں انقلاب آفریں تبدیلیاں رونما ہونے کو ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’جینیات کے شعبے میں گذشتہ دو سالوں میں جس قدر ترقی ہوئی ہے اس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ڈیزائنر بچے اب صرف ایچ جی ویلز کا ہی میدان نہیں رہا۔‘واضح رہے کہ سائنس فکشن میں بہت زمانے سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بچوں کی بات کہی جاتی رہی ہے جس میں زیادہ خوبصورت، زیادہ عقلمند اور بیماریوں سے پاک بچہ پیدا کرنے کے لیے جینیاتی طور پر تبدیلیاں کی گئی ہوں۔ انھوں نے سائنٹفک رپورٹ نامی جرنل میں اس بارے میں تفصیلات پیش کی ہیں۔انھوں نے ڈی این میں مخصوص ایڈیٹنگ کی تفصیلات فراہم کی ہے۔ یہ ایڈیٹنگ اس وقت کی گئی جب چوہے میں مادہ منویہ اور بیضے کے درمیان اختلاط کا عمل ہوا۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے سالمائی قینچی کی ایک جوڑی اور ایک سالمائی سیٹ۔نیو کا استعمال کیا جو قینچی کو یہ بتاتا ہے کہ کہاں کاٹنا ہے۔ یہ صد فی صد کامیاب ہو رہا ہے ایسا جیسا آپ گولی چلائیں اور سکور کریں۔‘اس شعبے میں ترقی سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ انسان کی بات ایک بار پھر اٹھنے لگی ہے۔جانوروں میں کلوننگ کی کامیابی کے بعد اب انسانوں میں ڈیزائنر بچوں کے امکانات پر بات ہونے لگی ہے
تاہم پروفیسر پیری کا کہنا ہے کہ ’انسانوں کے معاملے میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ان میں بعض نسل در نسل چلی آنے والی بیماریاں ہیں جو ان کے ڈی این اے میں شامل ہیں اور کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو ان بیماریوں سے محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں۔‘ان میں ایسے جین سے نجات بھی شامل ہیں جن سے کینسر جیسے مرض کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
بہر حال انھوں نے کہا کہ ’اس کے بارے میں بہت اندازہ لگایا جا رہا ہے اور اب یہ محض خیال خام نہیں۔ اب یہ صرف ایچ جی ویلز تک ہی محدود نہیں، آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ اسے جلد ہی حاصل کر لیا جائے گا (جانوروں میں)۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایچ ایف ای اے (برطانیہ کے تولیدی ضابطہ کار) کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ انھیں اس مسئلے سے سابقہ پڑنے والا ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…