ہفتہ‬‮ ، 13 جون‬‮ 2026 

پاک چین اقتصادی راہداری،چوہدری شجاعت کا مغربی میڈیابارے انکشاف،قوم کو انتباہ

datetime 11  جنوری‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے سیاستدانوں پر زور دیا ہے کہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری کے معاملہ میں پاکستان کی سالمیت و استحکام اور یکجہتی سے نہ کھیلیں،موجودہ صورتحال میں جبکہ پاکستان داخلی اور خارجی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، اقتصادی راہداری ہمارے دیرینہ اور آزمودہ دوست کی دوستی کی عظیم نشانی اور تحفہ ہے۔ اپنے اےک بےا ن مےں انہوںنے کہاکہ مغربی طاقتیں اور باالخصوص ہمارا ہمسایہ بھارت اس عظیم منصوبہ پر خوش نہیں ہیں اور اس کے خلاف واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز میں پہلے ہی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور بلاشبہ اس خطہ میں تبدیلی و تعمیر کا بہت بڑا منصوبہ ہے لیکن بدقسمتی سے ہم سیاستدان اس پر بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ سابق وزیراعظم نے خبردار کیا کہ اتنے بڑے منصوبہ پر سیاسی بصیرت کا فقدان بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے کیونکہ اگر اس منصوبہ کو منسوخ یا تاخیر کا شکار کیا گیا تو پاکستان اس عشرہ کے سب سے بڑے قومی سانحہ کو برداشت نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اتفاق رائے کے نام پر پورے ملک کو گوناگوں مسائل سے دوچار کر دیا گیا ہے جس کی سب سے بڑی مثال کالاباغ ڈیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی ہر مسئلہ یا ہر معاملہ میں سو فیصد اتفاق رائے حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی پاکستان سو فیصد اتفاق رائے سے قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ملک بھی سو فیصد اتفاق رائے کے پیچھے نہیں بھاگتا اور نہ ہی سمجھدار ممالک ایسے ترقیاتی منصوبوں پر مسائل پیدا کرتے ہیں جو ملکی مفاد میں ہوں۔ چودھری شجاعت حسین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں قومی سطح کی سوچ تنزل کی آخری حد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013ءکے الیکشن اور اٹھارویں ترمیم کے بعد ملک چار حصوں میں منقسم ہو چکا ہے جس سے وفاق کمزور ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کے روٹ کو ہر ایک کی خواہش اور سوچ کے مطابق تبدیل نہیں کیا جا سکتا نہ ہی یہ ہم میں سے ہر ایک کے گھر کے آگے سے گزارا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…