اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، پٹھان کوٹ حملے کی مذمت

datetime 8  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے ہر قسم کی دہشت گردی کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام دہشت گردوں اور دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائی پر مکمل اتفاق رائے ہے، خطے سے دہشت گردی ختم کرنے کیلئے بھارت سے بھی مکمل تعاون کیا جائیگا اور پٹھانکوٹ حملے کے حوالے سے بھارتی حکومت سے رابطہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ممالک ٹھوس، بامقصد اور جامع مذاکراتی عمل پر قائم رہیں ۔ اعلی سطحی اجلاس جمعہ کو یہاں وزیراعظم محمد نواز شریف کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف ، وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان، وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز، قومی سلامتی مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ ، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل محمد رضوان اختر، سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری اور ڈی جی ملٹری آپریشنز شریک ہوئے ، اجلاس میں پاکستان کی طرف سے ہر قسم اور ہر شکل کی دہشت گردی کی سخت مذمت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف کارروائیوں سے غیر معمولی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور پاکستان کی پوری قیادت اور تمام ادارے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خاتمے کیلئے مل کر کام کررہے ہیں، اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان کے عوام نے تمام دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کیخلاف کسی بھی امتیاز کیخلاف کارروائی کیلئے سیاسی اتفاق رائے قائم کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی دہشت گرد کو دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، اجلاس میں پٹھانکوٹ حملے کا بھی جائزہ لیا گیا اور پاکستان کی طرف سے اس واقعہ کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خطے سے دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے کیلئے بھارت کیساتھ تعاون کیا جائیگا اس ضمن میں پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا اور خاص طور پر بھارتی حکومت کی طرف سے فراہم کی گئی اطلاعات کے مطابق پیشرفت پر غور کیا گیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس حوالے سے بھارت کی حکومت سے قریبی رابطہ رکھا جائیگا۔ اجلاس میں اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ حالیہ اعلی سطحی رابطوں کے نتیجے میں پیدا ہونیوالے خیر سگالی کے جذبے کو برقرار رکھتے ہوئے دونوں ممالک ٹھوس، بامقصد اور مذاکراتی عمل پر قائم رہیں گے۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…