جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

لاڑکانہ میں شرمناک بیماری نے جڑ پکڑ لی،سندھ بھر میں خطرناک اضافہ

datetime 14  فروری‬‮  2016 |

لاڑکانہ(نیوزڈیسک) لاڑکانہ سمیت اندرون سندھ میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں گذشہ سال تشویش ناک حد تک اضافہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، سال 2015 میں ایچ آئی وی ایڈز کے مزید 298 کیسز سامنے آئے جن میں سے 15 مریض جان بحق ہوگئے، لاڑکانہ کے مرکز پر رجسٹرڈ مریضوں کی مجموعی تعداد 1034 تک جا پہنچی جن میں مجموعی طور پر 97 مریض جان بحق ہوچکے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ کے ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت لاڑکانہ کی چانڈکا اسپتال میں قائم ایڈز سے بچاﺅ کے مرکز کے ذرائع کے مطابق لاڑکانہ سمیت متعدد اضلاع میں گذشتہ سال 2015 میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں کافی حد تک اضافہ آچکا ہے۔ جس کے دوران مزید 298 ایچ آئی وی ایڈز کے کیسز سامنے آئے جنہیں رجسٹرڈ کیا گیا، ان میں 237 مرد، 57 خواتین اور 2 بچے شامل ہیں جبکہ ان میں سے حالت تشویشناک ہونے کے باعث 15 افراد جان بحق ہوگئے۔ آیچ آئی وی ایڈز سینٹر کے ذرائع کے مطابق سینٹر پر سال 2007 سے لے کر 2015 تک رجسٹرڈ مریضوں کی مجموعی تعداد 1034 تک جا پہنچی ہے جن میں سے جان بحق ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 97 ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رجسٹرڈ مجموعی مریضوں میں 96 شادی شدہ جوڑے اور 26 ہیجڑے شامل ہیں۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں میں سے 86 کو ہیپاٹائٹس کا مرض بھی پایا جاچکا ہے جن میں 79 مریض ہیپاٹائٹس سی، 7 مریض ہیپاٹائٹس بی جبکہ 31 مریض ٹی بی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب لاڑکانہ سینٹر پر رجسٹرڈ مریضوں میں اکثریت کا تعلق سندھ کے کراچی سمیت 11 اضلاع اور بلوچستان کے تین اضلاع سے ہے ان میں لاڑکانہ ضلع کے 564، قمبر شہدادکوٹ کے 158، شکارپور کے 27، خیرپور کے 86، جیکب آباد کے 18، کشمور کے 12، سکھر کے 38، دادو کے 80، گھوٹکی کے 10، جامشورو کے 7، نوشہرفیروز کے 14، کراچی کا ایک، قلات کے 6، جعفرآباد کے 11 اور نصیرآباد ضلع کا ایک مریض شامل ہے۔ دوسری جانب رجسٹرڈ مریضوں میں 16 بچے، 18 سال سے کم عمر کے 32، 18 سال سے 30 سال تک کے 549، 31 سال سے 40 سال تک کے 277، 41 سال سے 50 سال تک کے 120، 51 سال سے 60 سال تک کے 30 اور 61 سے 70 سال تک عمر کے 10 مریض شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…