پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

اسلامی فوجی اتحاد،فیصلے کون کرے گا؟ پاکستان نے سعودی عرب پرواضح کردیا

datetime 7  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان نے ایران اورسعودی عرب کے درمیان کشیدگی پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کاپھیلناامن اورعوام کیلئے اچھانہیں ہوگا،اپریل میں او آئی سی کااجلاس ترکی میں ہوگا،اجلاس سے پہلے ایران اورسعودی عرب کی کشیدگی کم کرنے اورسیاسی حل تلاش کی کوششیں کی جائینگی،- ایک اور سوال کے جواب میں مشیرخارجہ نے کہاکہ سعودی قیادت میں قائم 37رکنی اتحاد میں شامل ممالک میں سے ہرملک خودفیصلہ کریگا کہ وہ کس شعبے میں تعاون کرسکتاہے پاکستان اورسعودی عرب نے تعلقات کے فروغ اوروزرائے خارجہ کی سطح پرسال میں دومرتبہ ملاقات کرنے کافیصلہ کیاہے،سعودی قیادت میں قائم انسداددہشتگردی کے اجلاس میں ہرملک خود فیصلہ کریگاکہ وہ کس شعبے میں تعاون کرسکتاہے،رواں ماہ سعودی عرب میں اس حوالے سے وزرائے دفاع کااجلاس ہوگا جس میںآئندہ کالائحہ عمل طے کیاجائیگا۔جمعرات کوسعودی وزیرخارجہ عادل بن احمد الجبیرسے ملاقات کے بعدسرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہاکہ سعودی وزیرخارجہ کی میرے ساتھ وفد کی سطح پرتفصیلی ملاقات ہوئی ہے ان کا یہ دورہ نہایت مفید تھا کیونکہ موجودہ حالات کی روشنی میں اس دورے کی اشد ضرورت تھی ۔انہوں نے کہاکہ اس دورے کے دوران پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان گہرے تعلقات کے فروغ اور تعاون کوتمام شعبوں میں بڑھانے کااعادہ کیاگیا۔ملاقات کے دوران فیصلہ کیاگیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پرمشاورتی عمل سال میں دومرتبہ ہوگا اوردونوں وزرائے خارجہ سال میں ایک مرتبہ ریاض اورایک مرتبہ اسلام آباد میں ملاقات کرینگے اوراس میں تمام تعلقات کاجائزہ لیاجائیگا اورآئندہ کے اہداف مقررکئے جائیں گے۔مشیرخارجہ نے کہاکہ سعودی وزیرخارجہ نے بتایا کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والا34رکنی ا تحاد جس کے اب37ارکان ہوچکے ہیں انسداد دہشتگردی کے حوالے سے اتحاد ہے ،پاکستان نے علاقائی یاعالمی سطح پردہشتگردی کیخلاف جتنے بھی اقدامات یاپروگرام ہیں ان میں شرکت کی ہے اس لئے انہوں نے اس اتحاد میں پاکستانی شمولیت کابھی خیرمقدم کیا ہے اور سعودی وزیرنے بتایاہے کہ رواں ماہ کے دوران سعودی عرب میں اس حوالے سے وزرائے دفاع کااجلاس ہوگا جس میں آئندہ کالائحہ عمل طے کیاجائیگا کہ کون ساملک کس چیز میں تعاون کرناچاہتا ہے ۔سرتاج عزیز نے بتایا کہ ملاقات کے دوران ایران اورسعودی عرب کی کشیدگی پربھی بات ہوئی اوراس حوالے سے پاکستان نے اپنی تشویش کااظہار کیاکہ ایران میں سعودی عرب کے سفارتخانے اورمشہد میں سعودی قونصل خانے کو جلایاجاناافسوسناک ہے کیونکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق سفارتخانوں کی حفاظت کرنا ہرحکومت کافرض ہے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک میں جوکشیدگی پیدا ہوئی ہے اس پربھی پاکستان نے تشویش کااظہارکیا پاکستان نے اس خواہش اورامید کااظہار کیاکہ اس کشیدگی میں کمی ہوگی تاکہ مسلم امہ میں اتفاق ہو اوراس کے اثرات پورے خطے پرنہ پڑیں ۔مشیرخارجہ نے ایک سوال کے جواب میں امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں کشیدگی میں کمی آئے گی لیکن اس وقت صورتحال ایسی ہے کہ دونوں طرف سے جس تشویش کااظہار کیاجارہا ہے ا س کی وجہ سے کشیدگی کم کرنے میں وقت لگے گا تاہم اپریل میں او آئی سی کاایک اجلاس ترکی میں ہوگا اوراب سے لیکراپریل تک یہ کوششیں ہونگی کہ اس کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہو اوراس کا سیاسی حل اس طرح سے نکلے کہ دونوں فریق اوران کے حمایتی تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اگر خطے میں یہ کشیدگی اورپھیلی تو یہ امن اورعوام دونوں کیلئے اچھانہیں ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں مشیرخارجہ نے کہاکہ سعودی قیادت میں قائم 37رکنی اتحاد میں شامل ممالک میں سے ہرملک خودفیصلہ کریگا کہ وہ کس شعبے میں تعاون کرسکتاہے انہوں نے کہاکہ کچھ چیزیں تو بہت عام ہیں جن میں تربیت ،استعداد کار بہتربنانا اورانٹیلی جنس شیئرنگ جیسی چیزیں شامل ہیں جبکہ آگے چل کریہ واضح ہوگا کہ کس چیز کی کہاں ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان انسداد دہشتگردی کی غرض سے اب بھی بہت سے ممالک کے ساتھ تعاون کررہاہے اورہمیں شورش کیخلاف کارروائی کاتجربہ ہے جو گزشتہ برسوں کے دوران حاصل کیا ہے جسے اورلوگوں سے شیئر کرسکتے ہیں اوراب بھی ہم بعض ممالک کیلئے تربیتی پروگرام چلارہے ہیں تو اس میں مذکورہ اتحادکے رکن ممالک بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…