منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی انضمام الحق سے کیوں ملنا چاہتے ہیں، کلک کر کے جانیں

datetime 17  جنوری‬‮  2015 |

کراچی۔۔۔۔انضمام الحق اگرچہ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہوچکے ہیں اور اب ان کا زیادہ تر وقت دینی سرگرمیوں میں گزر رہا ہے لیکن آج بھی نوجوان کرکٹرز یہ خواہش رکھتے ہیں کہ انھیں انضمام الحق سے کچھ سیکھنے کا موقع مل سکے۔یہ خواہش ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی صہیب مقصود کی بھی ہے۔صہیب مقصود چاہتے ہیں کہ ورلڈ کپ میں جانے سے پہلے ان کی ملاقات انضمام الحق سے ہوجائے اور وہ ان سے بیٹنگ کے گرْ سیکھ سکیں۔’میری انضمام الحق سے باقاعدہ ملاقات نہیں رہی ہے۔ میں جب کرکٹ میں آیا تو وہ ریٹائر ہو چکے تھے۔ ملتان میں آئی ڈی پیز کے میچ کے موقع پر میں ان سے ملا تھا اور کافی مشورے ان سے لیے لیکن میں چاہتا ہوں کہ ورلڈ کپ میں جانے سے قبل ان سے ملوں۔ ان کے بھتیجے میرے بہت ہی اچھے دوست ہیں ان کے توسط سے ان سے ملوں گا تاکہ ان سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی وکٹوں پر بیٹنگ کے بارے میں رہنمائی لے سکوں۔‘صرف ورلڈ کپ کھیلنا ہی بڑی بات نہیں ہے اس میں اچھی کارکردگی بھی ضروری ہے اور کوشش یہی ہوگی کہ سنہ 1992 میں پاکستان نے آسٹریلیا نیوزی لینڈ میں جس طرح عالمی کپ جیتا تھا اس تاریخ کو دوہرائیں۔ میں اب ٹیم میں نیا نہیں ہوں۔ سال ڈیڑھ سال سے تقریباً تمام سیریز کھیلتا رہا ہوں تو اب مجھ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ میں مڈل آرڈر میں اچھی بیٹنگ کرکے ٹیم کے کام آسکوں۔
صہیب مقصود
صہیب مقصود اور انضمام الحق میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں کا تعلق ملتان سے ہے اور صہیب مقصود جس کلب سے کھیلتے ہیں انضمام الحق وہیں آ کر نیٹ پریکٹس کیا کرتے تھے لیکن صہیب مقصود یہ تسلیم کرتے ہیں کچھ بھی ہو انضمام الحق تک پہنچنا آسان نہیں۔
’انضمام الحق میرے فیورٹ کرکٹر ہیں اور میں نے انھیں ہمیشہ اپنا آئیڈیل رکھا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک ہی شہر کے ہونے کے ناطے اور ایک قد کاٹھ کی وجہ سے مجھے اپنے کریئر کے شروع میں لوگ ان سے ملتا جلتا کہتے تھے لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کے نام تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔‘صہیب مقصود ورلڈ کپ کی ٹیم میں شمولیت پر خوش ہیں لیکن انھیں اس بات کا بخوبی اندازہ بھی ہے کہ یہ ایک بہت بڑا امتحان ہے۔
’صرف ورلڈ کپ کھیلنا ہی بڑی بات نہیں ہے اس میں اچھی کارکردگی بھی ضروری ہے اور کوشش یہی ہوگی کہ سنہ 1992 میں پاکستان نے آسٹریلیا نیوزی لینڈ میں جس طرح عالمی کپ جیتا تھا اس تاریخ کو دوہرائیں۔ میں اب ٹیم میں نیا نہیں ہوں۔ سال ڈیڑھ سال سے تقریباً تمام سیریز کھیلتا رہا ہوں تو اب مجھ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ میں مڈل آرڈر میں اچھی بیٹنگ کرکے ٹیم کے کام آسکوں۔‘
صہیب مقصود کچھ عرصے سے کلائی کی تکلیف میں مبتلا تھے لیکن اب وہ خود کو مکمل فٹ محسوس کرتے ہیں۔
’فٹ ہونے کے بعد میں نے پنٹنگولر کپ کے میچز کھیلے جو میرے لیے اچھا تجربہ رہا اور میرا اعتماد بھی واپس آیا ہے۔‘
صہیب مقصود ماضی میں متعدد مرتبہ فٹنس مسائل سے دوچار رہے ہیں اور یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ کرکٹ چھوڑنے کے ڈر سے انھوں نے تعلیم بھی مکمل کرتے ہوئے ایم بی اے کیا لیکن پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب بیرون ملک ملازمت ان کی منتظر تھی لیکن انھوں نے کرکٹ کو اس پر ترجیح دی کیونکہ وہ یہی سوچا کرتے تھے کہ کرکٹ کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…