منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی کپ کیلئے پاکستان اور ہندوستان کیلئے ضابطہ اخلاق کیوں جاری کرنا پڑا ،کلک کرکے پڑھیں

datetime 15  جنوری‬‮  2015 |

دبئی۔۔۔۔دنیائے کرکٹ کا عالمی میلہ آئندہ ماہ 14 فروری کو سجے گا اور اس کے آغاز کے اگلے ہی روز روایتی حریفوں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان وہ سنسنی خیز میچ کھیلا جائے گا جسے دونوں اطراف کے شائقین اکثر وبیشتر زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔پاک انڈیا میچ سنسنی سے بھرپور تو ہوتے ہی ہیں لیکن یہ میچ منتظمین کے لیے بھی بعض اوقات دردِ سر بن جاتے ہیں کیونکہ جذباتی شائقین کو سنبھالنا اورکسی قسم کی بد نظمی نہ ہونے دینا ان کے لیے ایک مسئلہ ثابت ہوتا ہے۔لیکن آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ کے اوول کرکٹ اسٹیڈیم، جہاں 15 فروری کو پاکستان اور ہندوستان کے مابین ایک اہم میچ کھیلا جائے گا، کی انتظامیہ نے ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی مکمل انتظامات کر لیے ہیں۔ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایڈیلیڈ کی اوول اسٹیڈیم مینیجمنٹ اتھارٹی (اے او ایس ایم اے) نے پاک انڈیا میچ کے لیے ٹکٹس حاصل کر لینے والے افراد کے لیے ایک 85 نکاتی ضابطہ اخلاق ترتیب دیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوول اسٹیڈیم کی انتظامیہ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کسی بھی قسم کا ایسا سیاسی یا مذہبی مواد لانے پر پابندی عائد کردی ہے جو کسی دوسرے گروپ کی دل آزاری کا باعث بنے۔
اس ضابطہ اخلاق کا اطلاق انڈیا اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مابین واکا میں ہونے والے میچ پر بھی ہوگا، کیونکہ یو اے ای کی ٹیم میں شامل زیادہ تر کھلاڑیوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔
ورلڈ کپ 2015 کی میزبانی کے فرائض آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ مشترکہ طور پر سرانجام دیں گے۔

گزشتہ برس کے آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ایک کیفے میں لوگوں کو یرغمال بنئے جانے کے واقعے کے بعد کسی قسم کے سکیورٹی رسک سے بچنے کے لیے میچ کے حوالے سے یہ گائیڈلائنز مرتب کی گئی ہیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس موقع پر اسٹیڈیم کی 24 گھنٹے کلوز سرکٹ کیمروں سے نگرانی کی جائے گی جب کہ کسی بھی وقت اسٹیڈیم کے تمام دروازے بند کردینے کا بھی حق حاصل کیا گیا ہے چاہے تمام شائقین اسٹیڈیم پہنچ سکے ہوں نہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی خطرے کی صورت میں ایک ای میل ایڈریس اور فون نمبر بھی جاری کیاگیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…