ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

68برس سے جاری پاکستان اور بھارت کا مشاعرہ

datetime 27  دسمبر‬‮  2015 |

خصوصی تحریر:جاویدچوہدری
درمیانی عمر کے دو شخص ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے ٗ جب وہ بھاگ بھاگ کر ’’ہف‘‘ گئے تو لوگوں نے انہیں روکا ٗ بٹھایا ٗ پانی پلایا اور اس کے بعد ان سے بھاگنے کی وجہ پوچھی‘ ان میں سے نسبتاً زیادہ پریشان شخص سانس سنبھال کر بولا ’’ہم دونوں شاعر ہیں‘‘ وہ رکا ٗ لمبا سانس لیا اور اس کے بعد بولا ’’ہم دونوں ایک دوسرے کو شعر سنا رہے تھے‘‘ وہ دوبارہ رکا‘اس نے سینے پر ہاتھ رکھا اور غصے سے بولا ’’ یہ بڑا بدبخت انسان ہے اس نے اپنی غزل سنادی جب میری باری آئی تو اٹھ کر بھاگ کھڑا ہوا‘‘ ۔
یہ ایک اتنا پرانا اور گھساپٹا لطیفہ ہے جو اپنی طبعی عمر گزار کر تعزیت کے دور میں داخل ہو چکا ہے ٗ میرے ایک دوست مرزا منتظر اس قسم کے لطائف کے بارے میں کہا کرتے ہیں ’’ اس کی مونچھیں تک سفید ہو چکی ہیں‘‘ جبکہ ایک دوسرے دوست عرفان جاوید ان کے بارے میں کہتے ہیں ’’جب یہ لطیفہ پیدا ہوا تھا تو اس وقت بحر مردار زندہ ہوا کرتا تھا‘‘ اس کلاس کے لطائف کے بارے میں یہ ساری باتیں درست ہیں ٗ یہ اس قدر سنے اور سنائے جا چکے ہوتے ہیں کہ جب کوئی شخص 21 ویں صدی میں انہیں دہرانے کی غلطی کرتا ہے تو لوگ پریشانی میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور آخر میں جب ہنسی کا مقام آتا ہے تو سب کے منہ سے بے اختیار آہ اور چچ چچ کی آوازیں نکلتی ہیں۔ دو شاعروں کے اس لطیفے کا شمار بھی ان آنجہانی لطائف میں ہوتاہے۔میں نے یہ مرحوم لطیفہ پانچ سال کی عمر میں سنا تھا ٗ اس کے بعد 31 برس تک مختلف موقعوں اور مختلف تقریبات میں سنتا رہا اور افسوس سے سرد دھنتا رہا لیکن گزشتہ روز یہ لطیفہ نہ صرف اپنی پوری جزئیات کے ساتھ مجھے یاد آ گیا ۔
یہ محض لطیفہ نہیں یہ ایک نہایت سنجیدہ قسم کی خارجہ پالیسی ہے اور بھارت پچھلے68 برسوں سے اس پالیسی کے ذریعے ہمیں بہلا رہا ہے ٗ بھارت چالاک شاعر کی طرح ہر پانچ دس برس بعد پاکستان کو ’’غزل غزل‘‘ کھیلنے کی دعوت دیتاہے ٗپاکستان اسے عالمی مشاعرہ سمجھ کر خوش ہو جاتا ہے ٗ دونوں فرشی نشست پر بیٹھتے ہیں ٗبھارت اپنی غزلیں شروع کرتا ہے ٗ ہم اس کے ہر شعر پر دل کھول کر داد دیتے ہیں ٗ ہمارے عوام تالیاں بجاتے ہیں ٗ واہ واہ کرتے ہیں‘ بھارت کے حق میں نعرے لگاتے ہیں ٗ بھارت واہ واہ کے اس شور میں ایک کے بعد دوسری اوردوسری کے بعد تیسری غزل شروع کر دیتا ہے اور ہم اپنی باری کے انتظار میں اس کی گھسی پٹی اور فضول غزلیں سنتے چلے جاتے ہیں جب بھارت کا سارا دیوان ختم ہو جاتا ہے تو ہم اپنی غزل شروع کرتے ہیں لیکن جونہی ہم پہلا مصرعہ پڑھتے ہیں‘ بھارت جوتے بغل میں دبا کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور ہم ’’ارے بھائی سنو ٗ ارے ٗ ارے کہاں جا رہے ہیں بھائی میاں‘‘ کہتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ٗ اگر آپ کومیری اس تھیوری پر یقین نہ آئے تو آپ اس لطیفے کوذہن میں رکھ کر بھارت کی خارجہ پالیسی کاجائزہ لے لیجئے ٗ آپ نہرو لیاقت علی خان مذاکرات سے من موہن سنگھ مشرف ڈائیلاگ تک پاک بھارت تعلقات کے 58 برسوں کا تجزیہ کر لیجئے آپ کو صاف محسوس ہو گا جب بھی بھارت عالمی دباؤ میں آیا اس نے پاکستان کے ساتھ ’’پیس پراسیس‘‘ شروع کر دیا ٗپاکستان نے اس پیس پراسیس کا والہانہ استقبال کیا ٗ پاکستان نے بھارت کیلئے اپنے سارے دروازے کھول دئیے ٗ بھارت نے جی بھر کر مراعات اور فائدے حاصل کئے لیکن جوں ہی بھارت کی طرف سے مراعات دینے کا وقت آیا تو بھارت نے جوتے بغل میں دبائے اور اٹھ کربھاگ گیا۔
آپ موجودہ صورتحال کو دیکھ لیجئے پاکستان اور بھارت کا موجودہ پیس پراسیس جنوری 2004ء میں شروع ہواتھا ٗ آج اس پراسیس کو 31 ماہ ہو چکے ہیں ٗ ان مذاکرات کا آغاز لوگوں سے لوگوں کے رابطے (پیپل ٹو پیپل کانٹیکٹ) سے ہوا ٗ بھارت کا کہنا تھا ’’ہمیں بڑے ایشوز حل کرنے سے پہلے دونوں ممالک کے لوگوں کو قریب لانا چاہیے‘‘ پاکستان نے فوراً بھارت کی یہ غزل سن لی چنانچہ کنٹرول لائن پر فائر بندی ہو گئی ٗ پاکستان اور بھارت کے درمیان 4 مقامات سے بس سروس اوردو مقامات سے ٹرین سروس شروع ہو گئی اور 58 برس بعدپاکستانی اوربھارتی کشمیر کے لوگ ایک دوسرے سے ملنے لگے ٗ پاکستان کا خیال تھا ’’پیپل ٹو پیپل کانٹیکٹ‘‘ کے بعد بھارت اصل ایشوز کی طرف آجائے گا ٗ وہ مقبوضہ کشمیر سے فوجیں واپس بلائے گا ٗ وہ دفاعی بجٹ میں کمی لانے اور جوہری ہتھیاروں کے بارے میں کسی ضابطہ اخلاق پر گفتگو کرے گا لیکن بھارت اس ’’پیس پراسیس‘‘ کو بس سروس تک محدود رکھنا چاہتا تھالہٰذاجب اس کا مقصد پورا ہو گیا تو اس نے بھاگنے کا فیصلہ کیا‘ اس کے بعد اسے بھاگنے کا کوئی مناسب موقع چاہئے تھا ٗ بھارت کو یہ موقع 11 جولائی کے ممبئی بم دھماکوں نے فراہم کر دیا ٗ 11 جولائی کو ممبئی کی انڈر گراؤنڈ میں 7 دھماکے ہوئے جن میں بھارت کے 150 افراد ہلاک ہو گئے ٗ بھارت نے حسب معمول پاکستان پر الزام لگایا ‘ 20 جولائی کو دہلی میں ہونے والے سیکرٹری خارجہ لیول مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیااور ہماری باری آنے پر بھاگ کھڑا ہوا۔
سوال یہ ہے یہ دھماکے کون کرا رہا ہے ٗ اس پر دوقسم کی آراء پائی جاتی ہیں ٗ ایک ٗیہ دھماکے پاکستان اور بھارت وہ لوگ کرا رہے ہیں جو اس ’’پیس پراسیس‘‘ سے خوش نہیں ہیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ’’ورکنگ ریلیشن شپ‘‘ کو پسند نہیں کرتے ٗ دوسرا‘ یہ دھماکے بھارت میں موجودوہ مسلمان اوروہ اقلیتیں کرا رہی ہیں جو بھارتی حکومت سے ناخوش ہیں ٗ ان دونوں امکانات سے بھارت کی حکومت بھی واقف ہے ٗ بھارتی حکومت جانتی ہے لشکر طیبہ سمیت تمام جہادی تنظیمیں ختم ہو چکی ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت پاکستان پر الزام لگارہاہے، کیوں؟ اس کیوں کا جواب بہت سادہ اور سیدھا ہے، بھارت کو بھاگنے کیلئے کوئی بہانہ چاہیے تھا اگر یہ دھماکے نہ ہوتے تو وہ کسی روڈ ایکسیڈنٹ کا بہانہ کرتا اور اس پیس پراسیس سے بھاگ جاتا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے پچھلے سال بھارت کے معروف دانشور کلدیپ نیئر پاکستان آئے تھے، اسلام آباد میں میری ان کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی، میں نے ان سے ’’پیس پراسیس‘‘ کے مستقبل کے بارے میں پوچھاتھا انہوں نے ہنس کر جواب دیاتھا’’بس بھارت میں ایک دھماکہ ہونے کی دیر ہے اوریہ سارا پراسیس ہوا میں اڑ جائے گا‘‘ مجھے اس وقت ان کی بات سمجھ نہیں آئی تھی لیکن آج ان کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوگئی، میں جب سیکرٹری خارجہ جناب ریاض محمد خان کے دفتر سے نکل رہا تھا تو میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا’’ابھی چند دنوں میں بھارت میں ایک دو دھماکے ہوں گے اورپاکستان اور بھارت ایک بار پھر 2002ء کی پوزیشن پرآ جائیں گے‘‘ اس نے حیران ہوکر پوچھا ’’وہ کیوں‘‘ میں نے عرض کیا’’یہ سارے پراسیس ڈھکوسلے ہیں۔ بھارت پاکستان کو اپنا ازلی دشمن سمجھتا ہے اوروہ اس دشمنی کو ابد تک جاری رکھنا چاہتا ہے ٗپاکستان سے دشمنی میں اس کی بقا چھپی ہے لہٰذا یہ پیس اور یہ پراسیس دونوں بانجھ ہیں ٗ یہ کبھی بچے نہیں دے سکیں گے۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…