جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

‘ فرض کریں توبہ کی” ت“ تک پہنچنے سے پہلے ہی آپ کی مہلت ختم ہو جاتی ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے

datetime 19  مارچ‬‮  2016 |

خصوصی تحریر:جاوید چوہدری
چلئے فرض کرتے ہیں ‘یہ دس جولائی 2015ء کا دن ہے‘ ہم ملتان میں ہیں‘ ہماری فلائٹ نے بارہ بج کر پانچ منٹ پر روانہ ہونا ہے اورہمارا پی اے ‘ہمارا سٹاف افسر یا ہمارا اے ڈی سی ائرپورٹ پہنچ چکا ہے‘ فرض کرتے ہیں ہم لوگ ہمیشہ’’بلک ہیڈ‘‘ سیٹ پر بیٹھتے ہیں اور ہماری دائیں بائیں دونوں نشستیں عموماً خالی رکھی جاتی ہیں‘ ایک سیٹ پر ہم اپنی عینک‘ رومال اور دستی بیگ رکھتے ہیں اور دوسری سیٹ پر ہماری فائلیں‘ شاپنگ کی لسٹ اور اخبار رکھے جاتے ہیں‘ فرض کرتے ہیں بلک ہیڈ سیٹ ریزرو تھی لیکن ہمارے اے ڈی سی نے سٹیشن منیجر کوبتایا اس کے جنرل صاحب‘ اس کے وزیراور اس کے سیکرٹری صاحب ذرا سخت طبیعت کے ہیں اوراگر انہیں پسندیدہ سیٹ نہ ملی تو وہ ائر پورٹ کا سارا سٹاف بدل دیں گے‘فرض کرتے ہیں سٹیشن منیجر ڈرگیا‘ اس نے فون اٹھایا اور بلک ہیڈ کی پوری قطار ہمارے لئے خالی کر ادی‘فرض کرتے ہیں ہم میٹنگ میں ہیں‘ ہم میٹنگ میں موجود تمام لوگوں کی بے عزتی کررہے ہیں‘ ہم ایس ای‘ ایس ڈی او‘ ایکس ای این‘ جنرل منیجر‘ ناظم اور سٹیشن کمانڈر سب کوگالیاں دے رہے ہیں‘ فرض کرتے ہیں ہم نے بزنس مینوں اور جاگیرداروں سے دو کروڑ روپے بٹور لئے ہیں‘ ہم نے ٹھیکیداروں کو لاہور میں کام دلانے کا جھانسہ دے کر تیس‘ چالیس لاکھ روپے نکلوا لئے ہیں‘ ہم نے شراب فراہم کرنے والے کو اسی صبح ٹھیکہ دے دیاہے اور ہم نے اپنی مہربان خاتون کیلئے دس تولے خالص سونے کا ہار خریدلیاہے‘ ہم نے میٹنگ میں بیٹھے بیٹھے ورکروں کا بونس مارنے کا فیصلہ کرلیا ہے‘ ہم نے لاہور اور اسلام آباد میں موجود اپنے دشمنوں کو سبق سیکھانے کا فیصلہ کر لیا ہے‘ ہم نے اپنے مخالف امیدوار کو پولیس مقابلے میں مروانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے‘ ہم نے اپنے مخالف ڈین کی بجلی کاٹ دینے کا فیصلہ کر لیاہے‘ ہم نے امریکہ میں مقیم اپنے دوست کے پیسے ہڑپ کرنے کی پلاننگ کر لی ہے اور ہم نے 2012ء تک اقتدار میں رہنے کا اچھوتا فارمولہ سوچ لیاہے۔
فرض کرتے ہیں ٹھیک گیارہ بج کر پانچ منٹ پر ہمارے سٹاف افسر نے ہمیں ائرپورٹ چلنے کا اشارہ کیا‘ ہم نے گھڑی دیکھی اور غرور سے گردن تان کر کہا‘ابھی پورا ایک گھنٹہ باقی ہے‘ اے ڈی سی فلائٹ روک کر رکھے گااور اس کے ساتھ ہی ہم نے میٹنگ میں موجود لوگوں کی دوبارہ بے عزتی شروع کر دی‘ ہم نے کافی ٹھنڈی ہونے پر چپڑاسی کو گالی دی ‘ ہم نے کمرے کا اے سی تبدیل نہ کرنے پر سیکرٹری کو جھاڑ پلادی‘ ہم نے وہاں بیٹھے بیٹھے اپنے سیکرٹ اکاؤنٹس غیر ملکی بینکوں میں شفٹ کرنے کا حکم دیا‘ ہم نے ہمسائے کے پلاٹ پر قبضے کی سکیم بنائی‘ہم نے سرکاری خزانے سے اپنے سالوں اور بہنوئیوں کو نوازنے کا فیصلہ کیا‘ہم نے شاملاٹ پر ہاؤسنگ پراجیکٹ لانچ کرنے کا منصوبہ تراشا‘ ہم نے پارٹی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا‘ ہم نے قبرستان میں دکانیں بنانے کی سکیم بنائی‘ ہم نے بینک سے قرضہ لے کر فیکٹری لگانے اور یہ فیکٹری بیچ کر باہر بھاگ جانے کی پلاننگ کی اورہم نے دواؤں میں گھپلے کرنے‘ جعلی دوائیں بیچنے اور ہسپتالوں کے ایس ایم ایس کو رشوت دینے کا منصوبہ بنایا‘ فرض کرتے ہیں ساڑھے گیارہ بجے ہماراسٹاف افسر ہمارے سر پر کھڑا ہو گیا اور ہمیں یاد دلایا لاہور میں ہماری چیف منسٹر‘ اسلام آباد میں وزیراعظم اور راولپنڈی میں صدر کے ساتھ میٹنگ ہے اور اگر یہ جہاز چھوٹ گیا تو ہم ان حضرات کی تعریف کرنے کا موقع کھو دیں گے‘ ہم نے جیب میں موجود صدر صاحب کی پسندیدہ خوشبو ٹٹول کر دیکھی‘ ہم نے فیصلہ کیا ہم اس بار کی میٹنگ میں اپنے تمام دشمنوں سے جی بھرکے بدلے لیں گے‘ ہم ان لوگوں کے کرتوتوں سے صدر صاحب کو آگاہ کریں گے‘فرض کرتے ہیں ہم نے آخری گھونٹ بھرا‘ دفتر سے نکلے اور گاڑی میں بیٹھ گئے‘ ڈرائیور نے گاڑی کا انجن اور اے سی دونوں سٹارٹ کررکھے تھے‘ فرض کرتے ہیں ہم نے اپنے ڈرائیوروں کو حکم دے رکھا تھا وہ ہمارے آنے سے ایک گھنٹہ پہلے گاڑی اور اس کا اے سی آن کر دیا کریں‘ہماراسٹاف افسرہمارے ساتھ اورہماراسیکورٹی گارڈ آگے بیٹھ گیا‘ سیکورٹی کی ایک گاڑی ہمارے آگے اور دوسری ہمارے پیچھے پیچھے چلنے لگی‘فرض کرتے ہیں ہم نے ڈرائیور کی سستی پر اسے ڈانٹ پلائی‘ ہم نے اپنے سٹاف افسر کو بھی خوب ڈانٹ پلائی‘ ہمیں شک تھا وہ بیگم صاحبہ کو ہماری غیر نصابی سرگرمیوں کی اطلاع دیتا ہے‘ ہم نے راستے کی بے ہنگم ٹریفک اور ناہموار سڑکوں پر ملتان کی انتظامیہ کوبھی گالیاں دیں‘ ہم نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے لندن سے نیلی پیلی گولیاں منگوانے کا حکم دیا ‘ ہم نے اپنے کتوں کیلئے ہالینڈ سے بسکٹ منگوانے کا آرڈر دیا‘ ہم نے اپنی وگ کیلئے امریکہ سے شیمپو منگوایا اور ہم نے پیرس سے پرفیوم کی نئی بوتلیں لانے کی ہدایت کی اورہم نے گاڑی ہی میں اپنا واٹربیڈ بدلنے کا حکم دیا۔
فرض کرتے ہیں ہم ائر پورٹ پہنچے‘ فرض کرتے ہیں اے ڈی سی نے آگے بڑھ کر ہمارا دروازہ کھولا‘ فرض کرتے ہیں سٹیشن منیجر نے دوڑ کر ہمارا بیگ اٹھا لیا‘ فرض کرتے ہیں ہمارے سٹاف افسر نے ہماری فائلیں اٹھالیں‘ فرض کرتے ہیں ڈرائیور اورسیکورٹی گارڈز نے ہمیں احترام سے سلام کیا‘ فرض کرتے ہیں ہم نے ان کے جواب میں ٹھوڑی ہلائی‘ فرض کرتے ہیں ہم وی آئی پی لاؤنج سے ہوتے ہوئے رن وے پر آئے‘ فرض کرتے ہیں ایک باوردی ملازم نے ہاتھوں کی طشتری بنا کر ہمارا بورڈنگ پاس اٹھا لیا‘ فرض کرتے ہیں ہم جہاز میں داخل ہوتے ہیں‘ فرض کرتے ہیں ہم جہاز میں بیٹھے لوگوں کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے ‘ فرض کرتے ہیں ہمارا عملہ ہمارا سامان ہماری سیٹ کے دائیں بائیں رکھ دیتا ہے‘ فرض کرتے ہیں جہاز کے دروازے بند ہوتے ہیں‘ فرض کرتے ہیں جہاز ٹیکسی کرتا ہے ‘ جہاز ٹیک آف کرتا ہے‘ فرض کرتے ہیں ہم آنکھیں بند کر کے جہاز میں لیٹ جاتے ہیں‘ فرض کرتے ہیں ٹھیک ایک منٹ بعد ہمیں جھٹکا لگتا ہے‘ ہم ہڑبڑا کر آنکھیں کھولتے ہیں ‘ہم جہاز کو ڈولتا ہوا پاتے ہیں‘ جہاز کبھی اوپر اٹھتا ہے اور کبھی نیچے آتا ہے‘ جہاز کے پر کبھی درختوں سے ٹکراتے ہیں‘ کبھی چمنیوں سے الجھتے ہیں‘ کبھی اس کی ایک سائیڈ زمین سے ٹکراتی ہے اور کبھی دوسری سائیڈ ‘ فرض کرتے ہیں ہمارے منہ سے چیخ نکلتی ہے‘ہم سیٹ بیلٹ کھول کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں اور فرض کرتے ہیں اس وقت ‘ٹھیک اس لمحے‘ بارہ بج کر آٹھ منٹ پر ہم اللہ کے حضور توبہ کا ارادہ کرتے ہیں ‘ فرض کرتے ہیں توبہ کی’’ ت‘‘ تک پہنچنے سے پہلے ہی ہماری مہلت ختم ہو جاتی ہے‘ ہمارا جہاز زمین سے ٹکرا تا ہے‘ ہم آخری سانس‘ آخری ہچکی لیتے ہیں اور ہمارا جسم پٹرول کے دھوئیں میں گھل ہو کر ہواؤں میں تحلیل ہو جاتا ہے ‘ فرض کرتے ہیں دنیا میں صرف ایک انگوٹھی‘ آدھا جلا ہوا ایک جوتا‘ سونے کا ایک دانت اور ایک ٹوٹی ہوئی عینک ہماری نشانی رہ جاتی ہے‘فرض کرتے ہیں ہمارے سارے خواب‘ ہمارے سارے منصوبے ملتان کی اس گمنام بستی سورج میانی میں بکھر جاتے ہیں‘ ہم تین منٹ میں ’’ہے ‘‘سے ’’تھے‘‘ ہو جاتے ہیں‘ ہم مرحوم ہو جاتے ہیں‘ فرض کرتے ہیں ہم دس جولائی دن بارہ بج کر پانچ منٹ اور ملتان کی فلائٹ پی کے 688 کے مسافر ہیں اور بارہ بج کر آٹھ منٹ پر ہمارے سارے خوابوں‘ ہمارے سارے منصوبوں‘ ہماری ساری نفرتوں‘ساری کدورتوں‘ ساری محبتوں اورساری عداوتوں کے چیتھڑے اڑجاتے ہیں‘ فرض کرتے ہیں ہم دس جولائی کو دن بارہ بج کر 8منٹ پرمعلوم سے نامعلوم کے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں‘ ہماری خاک خاک میں مل جاتی ہے اور لوگ ہماری ہڈیوں‘ ہماری آنتوں‘ ہماری کھوپڑیوں اور ہماری آنکھوں پر چلتے ہیں۔فرض کرتے ہیں‘ہماری ساری فائلیں‘ہمارے سارے کاغذ‘ ہمارے سارے بریف کیس ‘ہماری ساری چیک بکس سورج میانی کی ان گمنام زمینوں‘ ان گمنام کھیتوں میں بکھر جاتی ہیں‘فرض کرتے ہیں ہمیں کفن تک خیرات کا نصیب ہوتا ہے‘ ہماری نعش ہماری نعش نہیں ہوتی‘ہمارا جنازہ ہمارا جنازہ نہیں ہوتااورہماری قبر ہماری قبر نہیں ہوتی اور فرض کرتے ہیں ہم پی کے 688 کے 45مسافروں میں سے ایک مسافرہوتے ہیں اور ہمارے پیارے ہماری دہلیزوں پر کھڑے ہو کر ہمارا انتظار کرتے رہ جاتے ہیں اور ہم اپنے سارے منصوبوں کے ساتھ ایک ناختم ہونے والے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں اور فرض کرتے ہیں ٹھیک بارہ بج کر نو منٹ پر ہمارا رب ہم سے پوچھتا ہے’’اوئے تم کون تھے اور تمہیں کس چیز کا غرورتھا‘‘
فرض کرتے ہیں۔
Back to Conversion Tool

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…