جاپان کے سکول کے ایک سابق ہیڈماسٹرکونابالغ لڑکیوں کی برہنہ تصویریں اتارنے اوررکھنے پرسزائے موت سنائی گئی ہے ۔ اس مجرم نے مبینہ طور پر رقم کے بدلے بارہ ہزار تک فلپائنی خواتین کی جنسی خدمات خریدی تھیں۔جاپانی دارالحکومت ٹوکیو سے جمعہ پچیس دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق شہر یوکوہاما کی ایک مقامی عدالت نے 65 سالہ یوہائی تاکاشیما کو دو سال کی سزائے قید سنائی ہے۔ تاہم مجرم کو سنائی گئی سزائے قید پر عملدرآمد چار سال تک معطل رہے گا۔تاکاشیما، جو ماضی میں مبینہ طور پر چودہ سال تک عمر کی فلپائنی لڑکیوں کے ساتھ مالی ادائیگیوں کے بدلے جنسی تعلقات کا مرتکب بھی ہوا تھا، عدالت سے کیے گئے اپنے اس وعدے کی وجہ سے فوری طور پر جیل جانے سے بچ گیا کہ وہ آئندہ ایسے جرائم کا مرتکب نہیں ہو گا۔ایک غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس سابق جاپانی ہیڈ ماسٹر کو سنائی گئی سزا کی وجہ اس کی کئی برسوں پر محیط وہ جنسی سرگرمیاں نہیں بنیں، جن کے تحت اس نے فلپائن میں پیسے دے کر مجموعی طور پر قریب بارہ ہزار عورتوں کے ساتھ جنسی رابطے قائم کیے تھے۔ اس کے برعکس اس کو سزا اس لیے سنائی گئی کہ وہ جنسی مقاصد کے لیے فلپائن میں ایسی کئی لڑکیوں کی برہنہ تصویریں اتارنے کا مرتکب ہوا تھا، جن کی عمریں 12 اور 14 برس کے درمیان تھیں۔جاپانی کے ایک خبررساں ادارے نے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مجرم نے کم عمر فلپائنی لڑکیوں کی یہ برہنہ تصویریں بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو سال قبل فلپائن کے ایک ہوٹل میں اتاری تھیں۔جاپانی میڈیا کے مطابق یہ سابق ہیڈ ٹیچر جنسی روابط کے حوالے سے اس حد تک پیچیدہ اور نفسیاتی سطح پر جنونی سوچ کا حامل تھا کہ اس نے 27 سال کے عرصے میں 12 ہزار کے قریب فلپائنی خواتین کے ساتھ جو جسمانی تعلقات قائم کیے، ان جنسی مصروفیات کی ڈیڑھ لاکھ کے قریب تصاویر اس نے تقریبا? 400 مختلف البمز میں باقاعدہ ریکارڈ کے طور پر محفوظ کر رکھی تھیں۔اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران تاکاشیما نے عدالت کو بتایا تھا کہ اسے ’چیزیں جمع کرنے کی عادت‘ ہے اور وہ اپنی ’یادیں محفوط کرنا‘ چاہتا تھا۔ یوکوہاما کے مقامی میڈیا نے یہ بھی لکھا ہے کہ مجرم ایک مڈل اسکول کا سابق پرنسپل ہے، جس نے فلپائن میں پیسے دے کر عورتوں اور لڑکیوں سے جنسی رابطے قائم کرنے کا عشروں تک جاری رہنے والا سلسلہ اس وقت شروع کیا تھا، جب 1988 میں اس کا تبادلہ منیلا میں قائم جاپانی اسکول میں ہوا تھا۔اس عرصے کے دوران مجرم فلپائن میں ہی ہر سال تین مرتبہ ’جنسی دورے‘ بھی کرتا تھا اور اپنی گرفتاری تک اس نے ایسے 65 دورے کیے تھے۔ جاپان کے نیپن ٹی وی کے مطابق فلپائن میں یہ مجرم جن عورتوں اور نابالغ لڑکیوں کی جنسی خدمات خریدنے کا مرتکب ہوا، ان کی عمریں 14 اور 70 برس کے درمیان تھیں۔ اپنے فیصلے میں عدالت کے جج نااوکو اوموری نے کہا، ”تاکاشیما کے اقدامات شیطانی اور قابل نفرت ہیں، کیونکہ اس نے فلپائن میں نوجوان لڑکیوں کی مالی مجبوریوں کا فائدہ اٹھایا۔اس مقدمے کے بعدجاپان میں ایک نئی بحث چڑھ گئی ہے کہ اس ملزم کوآیاکم سزاتونہیں دی گئی ہے ۔
جاپان میں انوکھا سکول ہیڈماسٹر جس نے 12000کمسن بچیوں کی جنسی خدمات حاصل کیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































