ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

جاپان میں انوکھا سکول ہیڈماسٹر جس نے 12000کمسن بچیوں کی جنسی خدمات حاصل کیں

datetime 27  دسمبر‬‮  2015 |

جاپان کے سکول کے ایک سابق ہیڈماسٹرکونابالغ لڑکیوں کی برہنہ تصویریں اتارنے اوررکھنے پرسزائے موت سنائی گئی ہے ۔ اس مجرم نے مبینہ طور پر رقم کے بدلے بارہ ہزار تک فلپائنی خواتین کی جنسی خدمات خریدی تھیں۔جاپانی دارالحکومت ٹوکیو سے جمعہ پچیس دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق شہر یوکوہاما کی ایک مقامی عدالت نے 65 سالہ یوہائی تاکاشیما کو دو سال کی سزائے قید سنائی ہے۔ تاہم مجرم کو سنائی گئی سزائے قید پر عملدرآمد چار سال تک معطل رہے گا۔تاکاشیما، جو ماضی میں مبینہ طور پر چودہ سال تک عمر کی فلپائنی لڑکیوں کے ساتھ مالی ادائیگیوں کے بدلے جنسی تعلقات کا مرتکب بھی ہوا تھا، عدالت سے کیے گئے اپنے اس وعدے کی وجہ سے فوری طور پر جیل جانے سے بچ گیا کہ وہ آئندہ ایسے جرائم کا مرتکب نہیں ہو گا۔ایک غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس سابق جاپانی ہیڈ ماسٹر کو سنائی گئی سزا کی وجہ اس کی کئی برسوں پر محیط وہ جنسی سرگرمیاں نہیں بنیں، جن کے تحت اس نے فلپائن میں پیسے دے کر مجموعی طور پر قریب بارہ ہزار عورتوں کے ساتھ جنسی رابطے قائم کیے تھے۔ اس کے برعکس اس کو سزا اس لیے سنائی گئی کہ وہ جنسی مقاصد کے لیے فلپائن میں ایسی کئی لڑکیوں کی برہنہ تصویریں اتارنے کا مرتکب ہوا تھا، جن کی عمریں 12 اور 14 برس کے درمیان تھیں۔جاپانی کے ایک خبررساں ادارے نے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مجرم نے کم عمر فلپائنی لڑکیوں کی یہ برہنہ تصویریں بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو سال قبل فلپائن کے ایک ہوٹل میں اتاری تھیں۔جاپانی میڈیا کے مطابق یہ سابق ہیڈ ٹیچر جنسی روابط کے حوالے سے اس حد تک پیچیدہ اور نفسیاتی سطح پر جنونی سوچ کا حامل تھا کہ اس نے 27 سال کے عرصے میں 12 ہزار کے قریب فلپائنی خواتین کے ساتھ جو جسمانی تعلقات قائم کیے، ان جنسی مصروفیات کی ڈیڑھ لاکھ کے قریب تصاویر اس نے تقریبا? 400 مختلف البمز میں باقاعدہ ریکارڈ کے طور پر محفوظ کر رکھی تھیں۔اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران تاکاشیما نے عدالت کو بتایا تھا کہ اسے ’چیزیں جمع کرنے کی عادت‘ ہے اور وہ اپنی ’یادیں محفوط کرنا‘ چاہتا تھا۔ یوکوہاما کے مقامی میڈیا نے یہ بھی لکھا ہے کہ مجرم ایک مڈل اسکول کا سابق پرنسپل ہے، جس نے فلپائن میں پیسے دے کر عورتوں اور لڑکیوں سے جنسی رابطے قائم کرنے کا عشروں تک جاری رہنے والا سلسلہ اس وقت شروع کیا تھا، جب 1988 میں اس کا تبادلہ منیلا میں قائم جاپانی اسکول میں ہوا تھا۔اس عرصے کے دوران مجرم فلپائن میں ہی ہر سال تین مرتبہ ’جنسی دورے‘ بھی کرتا تھا اور اپنی گرفتاری تک اس نے ایسے 65 دورے کیے تھے۔ جاپان کے نیپن ٹی وی کے مطابق فلپائن میں یہ مجرم جن عورتوں اور نابالغ لڑکیوں کی جنسی خدمات خریدنے کا مرتکب ہوا، ان کی عمریں 14 اور 70 برس کے درمیان تھیں۔ اپنے فیصلے میں عدالت کے جج نااوکو اوموری نے کہا، ”تاکاشیما کے اقدامات شیطانی اور قابل نفرت ہیں، کیونکہ اس نے فلپائن میں نوجوان لڑکیوں کی مالی مجبوریوں کا فائدہ اٹھایا۔اس مقدمے کے بعدجاپان میں ایک نئی بحث چڑھ گئی ہے کہ اس ملزم کوآیاکم سزاتونہیں دی گئی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…