پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ڈبلیو ٹی او نے ترقی یافتہ ممالک کی زرعی سبسڈیز ختم کردیں

datetime 22  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ ڈبلیو ٹی او نے ترقی یافتہ ممالک کے لیے زرعی ایکسپورٹ سبسڈی ختم کر دی ہے جبکہ پاکستان کی کاوشوں سے زرعی ایکسپورٹ سبسڈیز کو ترقی پذیر ممالک کے لیے محدود کر دیا گیا ہے جس سے پاکستان کے کسانوں کو عالمی تجارتی منڈیوں میں برابری کے ساتھ مقابلہ کرنے کا موقع ملے گا، پاکستان نے ڈبلیو ٹی او میں اپنے مفادات کا کامیابی سے دفاع کیا اور اجلاس میں اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیے۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر تجارت نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے دسویں وزارتی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کے بعد وطن واپسی پر جاری کردہ ایک بیان میں کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈبلیو ٹی او کی طرف سے ترقی پذیر ممالک کے لیے زرعی ایکسپورٹ سبسڈی کو محدود کرنا پاکستان کی بڑی کامیابی ہے کیونکہ چند بڑے ترقی پذیر ممالک نے اس سبسڈی کو اپنے مفادات کی خاطر قواعد و ضوابط کی روح کے منافی استعمال کرنا شروع کر دیا تھا، یہ ممالک زرعی اجناس کو ملکی زرعی تحفظ کے نام پر خرید کر اسٹاک کرتے اور بعد ازاں سبسڈی کے ذریعے برآمد کرتے ہیں، اس سے پاکستان جیسی چھوٹی معیشت اورغریب کاشت کار متاثر ہو رہے ہیں، ڈبلیو ٹی او میں پاکستان کے آواز اٹھانے پر اب بڑے ترقی پذیر ممالک ایسا اقدام نہیں اٹھا سکیں گے، بڑے ترقی پذیر ممالک نے حکومتی سطح پر اسٹاک کی گئی زرعی اجناس کو سبسڈی کے ذریعے برآمد کرنے کیلئے ڈبلیو ٹی اوکے زرعی معاہدے میں ترمیم کی کوشش کی جس کی پاکستان نے مخالفت کی اور ہم خیال ممالک کی مدد سے اسے ناکام بنا دیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈبلیو ٹی او نے ترقی یافتہ ممالک مثلاً آسٹریلیا، کینیڈا، یورپی یونین، آئس لینڈ، اسرائیل، نیوزی لینڈ، ناروے، سوئٹزرلینڈ اور امریکا کے لیے ایکسپورٹ سبسڈیز مکمل طور پر ختم کر دی ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک جو سبسڈیز دینے کا حق رکھتے ہیں جن میں یوراگوئے، وینزویلا، برازیل، کولمبیا، قبرص، انڈونیشیا، میکسیکو، پاناما، جنوبی افریقہ اور ترکی شامل ہیںکی ایکسپورٹ سبسڈیز 2018 تک ختم کر دی جائیں گی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…