پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

آئی پی گیس منصوبہ کے صرف 60کلومیٹرپرکام باقی رہ گیا، مرتضیٰ جتوئی

datetime 22  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر صنعت و پیداوارغلام مرتضیٰ جتوئی نے کہا ہے کہ ایران، پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے صرف60کلو میٹر حصے پر کام باقی رہ گیا ہے جس کی تکمیل اور ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا پائپ لائن (تاپی) سمیت ایل این جی ٹرمینلز کے قیام سے یقینی طور پر پاکستان کو 2018 تک گیس بحران سے مکمل نجات مل جائے گی۔کراچی چیمبر آف کامرس میں تاجروں وصنعت کاروں سے خطاب میں انھوں نے کہاکہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے سے آئی پی منصوبے میں تیزی آئے گی اور پائپ لائن کا بقیہ رہ جانے والا60کلومیٹر کام بھی جلد مکمل ہو جائے گا، حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کو درپیش توانائی بحران پر2018کے اختتام تک قابو پالیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلی حکومت نے توانائی بحران کو دور کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں 12 ہزار میگا واٹ بجلی کی قلت پیدا ہوئی، بجلی بحران موجودہ حکومت کو ورثے میں ملا تاہم وزیراعظم محمد نوازشریف کی اولین توجیح ہے کہ اس بحران سے جلد ازجلد نمٹا جائے، حکومت بجلی کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ہائیڈرو، گیس، کول، سولر اور ونڈ پاور پلانٹ کا قیام عمل میں لاکر بجلی بحران سے نمٹنے کے لیے بھرپور توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے وزارت صنعت وپیدوار، وزارات خزانہ، وزارت تجارت اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے درمیان باہمی اور موثر رابطوں کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کراچی اور ملک بھرمیں موجود ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں دستیاب سہولتوں کاذکر کرتے ہوئے تاجروصنعتکاربرادری کو مشورہ دیا کہ وہ ان ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز بالخصوص صوبے کے دیہی علاقوں میں قائم کیے گئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں اپنے صنعتی یونٹس قائم کرنے کے بارے میں سوچیں تاکہ سندھ کے بے روزگار نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع مسیر آسکیں۔بزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی نے کہاکہ انفرااسٹرکچر، پانی، گیس اور بجلی صنعتی یونٹس کی بنیادی ضروریات ہیں، ان کے حوالے سے مسائل مناسب نظام کے فقدان اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھے بغیر کیے گئے فیصلوں کے باعث پیدا ہو رہے ہیں، بدقمستی سے صوبہ سندھ کو 72فیصد گیس کی پیداوار کے باوجود بھی طلب کے مطابق گیس نہیں ملتی جس کے نتیجے میں صنعتی یونٹس کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے، حکومتی پالیسیاں سندھ اور پنجاب کے صنعتکاروں کے حق میں نہیں۔انہوں نے صنعت و پیداوار، خزانہ،تجارت اوردیگر متعلقہ وزارتوں سے کراچی چیمبر کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کی بھی درخواست کی۔ صدرچیمبر یونس بشیر نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ کراچی کو درپیش مسائل سے مشترکہ طور پر نمٹنے کی پالیسی بنائی جائے نیز کوئی حکمت عملی بنانے سے پہلے تاجروں کو آن بورڈ لیا جائے۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…