پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

آئی پی گیس منصوبہ کے صرف 60کلومیٹرپرکام باقی رہ گیا، مرتضیٰ جتوئی

datetime 22  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر صنعت و پیداوارغلام مرتضیٰ جتوئی نے کہا ہے کہ ایران، پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے صرف60کلو میٹر حصے پر کام باقی رہ گیا ہے جس کی تکمیل اور ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا پائپ لائن (تاپی) سمیت ایل این جی ٹرمینلز کے قیام سے یقینی طور پر پاکستان کو 2018 تک گیس بحران سے مکمل نجات مل جائے گی۔کراچی چیمبر آف کامرس میں تاجروں وصنعت کاروں سے خطاب میں انھوں نے کہاکہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے سے آئی پی منصوبے میں تیزی آئے گی اور پائپ لائن کا بقیہ رہ جانے والا60کلومیٹر کام بھی جلد مکمل ہو جائے گا، حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کو درپیش توانائی بحران پر2018کے اختتام تک قابو پالیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلی حکومت نے توانائی بحران کو دور کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں 12 ہزار میگا واٹ بجلی کی قلت پیدا ہوئی، بجلی بحران موجودہ حکومت کو ورثے میں ملا تاہم وزیراعظم محمد نوازشریف کی اولین توجیح ہے کہ اس بحران سے جلد ازجلد نمٹا جائے، حکومت بجلی کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ہائیڈرو، گیس، کول، سولر اور ونڈ پاور پلانٹ کا قیام عمل میں لاکر بجلی بحران سے نمٹنے کے لیے بھرپور توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے وزارت صنعت وپیدوار، وزارات خزانہ، وزارت تجارت اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے درمیان باہمی اور موثر رابطوں کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کراچی اور ملک بھرمیں موجود ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں دستیاب سہولتوں کاذکر کرتے ہوئے تاجروصنعتکاربرادری کو مشورہ دیا کہ وہ ان ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز بالخصوص صوبے کے دیہی علاقوں میں قائم کیے گئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں اپنے صنعتی یونٹس قائم کرنے کے بارے میں سوچیں تاکہ سندھ کے بے روزگار نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع مسیر آسکیں۔بزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی نے کہاکہ انفرااسٹرکچر، پانی، گیس اور بجلی صنعتی یونٹس کی بنیادی ضروریات ہیں، ان کے حوالے سے مسائل مناسب نظام کے فقدان اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھے بغیر کیے گئے فیصلوں کے باعث پیدا ہو رہے ہیں، بدقمستی سے صوبہ سندھ کو 72فیصد گیس کی پیداوار کے باوجود بھی طلب کے مطابق گیس نہیں ملتی جس کے نتیجے میں صنعتی یونٹس کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے، حکومتی پالیسیاں سندھ اور پنجاب کے صنعتکاروں کے حق میں نہیں۔انہوں نے صنعت و پیداوار، خزانہ،تجارت اوردیگر متعلقہ وزارتوں سے کراچی چیمبر کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کی بھی درخواست کی۔ صدرچیمبر یونس بشیر نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ کراچی کو درپیش مسائل سے مشترکہ طور پر نمٹنے کی پالیسی بنائی جائے نیز کوئی حکمت عملی بنانے سے پہلے تاجروں کو آن بورڈ لیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…