پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

سروسزٹیکس تنازعات پر وفاقی اورصوبائی حکام کاآج اجلاس طلب

datetime 17  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے وفاق اور صوبوں کے درمیان انٹرنیٹ سروسز پر جی ایس ٹی ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے سمیت سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس کے حوالے سے تنازعات کے حل کے لیے جمعرات کو اعلی سطح کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔قومی اخبار کو دستیاب دستاویز کے مطابق صبح 11 بجے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے اجلاس میں چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے)، سندھ ریونیو بورڈ(ایس آر بی)اور خیبرپختونخواہ ریونیو اتھارٹی (کے پی آر اے) کے سربراہان سمیت دیگر متعلقہ حکام شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان سروسز پر جی ایس ٹی کا معاملہ طے کرنے کے لیے ہونے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر بھی بات چیت ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں انٹرنیٹ سروسز پر بھی جی ایس ٹی عائد کیا گیا تھا جسے وفاقی و صوبائی اتھارٹیز کی جانب سے واپس لینے کا اعلان کیاگیا مگر ابھی تک اس کی واپسی کے لیے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا سکا۔جس کے باعث ٹیلی کام کمپنیوں میں بے چینی پائی جارہی ہے کیونکہ ٹیلی کام کمپنیاں صارفین سے انٹرنیٹ سروسز پر ٹیکس وصول نہیں کر رہیں اور اگر صوبائی ریونیو اتھارٹیز کی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں سے انٹرنیٹ سروسز پر سیلز ٹیکس وصولی کا مطالبہ کردیا گیا تو اس صورت میں ٹیلی کام کمپنیاں مشکل کا شکار ہوجائیں گی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں سندھ ریونیو بورڈ، پی آر اے، کے پی آر اے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے درمیان سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یاداشت پر عملدرآمد میں درپیش مشکلات کو دور کرنے کا میکنزم وضع کیا جائے گا۔ساتھ ہی صوبائی ریونیو اتھارٹیز کے پاس ٹیکس ریٹرنز میں زرعی آمدنی ظاہر کرنے والے ٹیکس دہندگان کے بارے میں معلومات کی فراہمی اور پراپرٹی پر ٹیکس وصولی میں اضافے کی تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا، اس کے لیے صوبائی ٹیکس قوانین میں ترامیم اور پراپرٹی کے سرکاری ریٹ (ڈی سی ریٹ) میں اضافے سمیت دیگر معاملات پر غور ہوگا جبکہ اجلاس میں ٹیکس دہندگان کو دہرے ٹیکسوں سے نجات دلانے کیلیے صوبائی ٹیکسز والی خدمات پر وفاق کا عائدکردہ ٹیکس ختم کرنے کے معاملے پر بھی بات ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…