ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

پاکستانی پریشان نہ ہوں ،ہم ان کے ساتھ ہیں ،چین کے اعلان نے پاکستانیوں کے سر فخربلندکردیئے

datetime 15  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستانی پریشان نہ ہوں ،ہم ان کے ساتھ ہیں ،چین کے اعلان نے پاکستانیوں کے سر فخربلندکردیئے .پاکستان اور چین نے توانائی ، معیشت، تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی دوستی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور تصور کرتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت شروع کئے جانے والے تمام منصوبے بروقت اور موثر انداز میں مکمل کئے جائیں۔ منگل کو یہاںوزیراعظم محمد نواز شریف اور چین کے وزیراعظم لی کی کیانگ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے چوتھے سربراہ اجلاس کے موقع پر دونوں رہنماﺅں نے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال، اقتصادی راہداری منصوبے اور پاکستان میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال اور وزیراعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر ہونے والی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت شروع کئے جانے والے تمام منصوبے بروقت اور موثر انداز میں مکمل کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ خطے کی تقدیر بدل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی دوستی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور تصور کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون دونوں ممالک کی قریبی دوستی کا عکاس ہے اور نئے منصوبے خطے کے عوام کا مقدر بدل دیں گے۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور غربت کا خاتمہ ہوگا۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ چین ارومچی میں ایک تجارتی ویزا آفس قائم کرنے کی اجازت دے تاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں پر عمل درآمد اور عوامی وفود کے تبادلوں میں سہولت مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ فری زون کو حوالے کے عمل میں پیشرفت اقتصادی زون کے قیام کے لئے ایک اچھا آغاز ہے۔ وزیراعظم نے چین کے وزیراعظم کو بتایا کہ فاٹا میں آپریشن ضرب عضب اور ملک میں نیشنل ایکشن پلان پر کامیابی سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔ انہوں نے چین کے وزیراعظم کو چینی کارکنوں کی سلامتی کے لئے بھرپور اقدامات کا یقین دلایا اور کہا کہ اس مقصد کے لئے ایک خصوصی سیکورٹی ڈویژن قائم کیا جا چکا ہے جبکہ ایک بریگیڈیئر کی کمانڈ میں گوادر سیکورٹی فورس پہلے ہی کام کر رہی ہے۔ دونوں رہنماﺅں نے افغان مفاہمتی عمل اور اسلام آباد میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا جس میں پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ پر مشتمل ایک اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی گئی جو افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل کی نگرانی کرے گی اور اس سلسلے میں مربوط کوششیں کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…