ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کاخیبرپختونخواکے صوبائی وزیر کو انتباہ

datetime 14  دسمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)عمران خان کاخیبرپختونخواکے صوبائی وزیر کو انتباہ، اسلامیہ کالج پشاور کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے کی اختتامی تقریب کو تحریک انصاف کے کارکنوں اور آئی ایس ایف کے جوانوں نے جلسے میں تبدیل کر دیا۔ عمران خان نے اسلامیہ کالج کے کانووکیشن میں شریک ہونا تھا، تاہم وہ کانووکیشن کے بعد تشریف لائے اور اسلامیہ کالج کے مرکزی گراو¿نڈ میں طلباءسے خطاب کیا، عمران خان نے کانووکیشن کو کنونشن کہا اور تعلیمی ادارے کی تقریب کو جلسہ بھی قرار دے ڈالا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو صوبائی وزیر شاہ فرمان کی وزارت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔تقریب کے دوران تحریک انصاف کی روایتی بدانتظامی عروج پر رہی، طلباء اور کارکن کسی کی سننے کو تیار نہیں تھے، عمران خان کو ہمیشہ کی طرح، اپنی تقریر کے دوران کئی مرتبہ نوجوانوں کو متوجہ ہونے کے لئے کہنا پڑا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ بڑے خواب دیکھنے والے ہی بڑا کام کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 2018ء تک ایک ارب درخت لگائیں گے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے اسپتالوں کے تاحال ٹھیک نہ ہونے کا بھی اعتراف کیا۔ اپنی تقریر کے آخر میں عمران خان نے پارہ چنار دھماکے کی مذمت بھی کی۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اسلامیہ کالج کی تقریب کے بعد وزیر اعلیٰ ہاو¿س پہنچے جہاں انہوں نے لوکل باڈی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کے بعد عمران خان سخت سکیورٹی میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچے جہاں انہوں نے خیبر پختونخوا ریڈیو سے عوامی مسائل سنے۔ اس موقع پر ڈی سی آفس میں پہلی بار میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر آفس کے ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ڈی سی ریاض محسود نے میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کی۔ ڈی سی آفس آمد کے موقع پر عمران خان کے ہمراہ صوبائی وزرائ مشتاق غنی،علی امین گنڈا پور اور اشتیاق ارمڑ تھے۔ ڈی سی آفس آمد کے موقع پر عمران خان کے ہمراہ دس گاڑیاں اور چھ پروٹوکول موٹر سائیکلیں تھیں جبکہ خیبر روڈ کو بھی بند کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…