پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

جرمنی نے پاکستانیوں کو نیا گرُ سکھادیا،روزانہ بجلی کی بڑی بچت،حکومت کو اہم پیشکش

datetime 8  دسمبر‬‮  2015 |

لاہور( نیوزڈیسک) ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو از سر نو 200میگاواٹ بجلی بچانے کی مشروط پیشکش کر دی گئی ،وزیر اعظم نواز شریف نے 4متعلقہ محکموںسے اپٹما کی تجویز قابل عمل ہونے یا نہ ہونے بارے سفارشات طلب کر لیں۔ ذرائع کے مطابق آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسویسی ایشن(اپٹما) کی جانب سے حکومت کو بھجوائے گئے ایک مرسلہ میں کہا گیا ہے کہ اپٹما نے اپنی مدد آپ کے تحت جرمنی کے ایک ٹیکنیکل ادارے کے ذریعے اپٹما نے ایک خصوصی ٹریننگ پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کے تحت انجینئرز اور عملہ کو خصوصی تربیت دی جاتی ہے کہ بجلی کے ضیاع کو روک کر بجلی کی کیسے بچت کی جا سکتی ہے۔اپٹما نے پائلٹ پروگرام کے تحت 25ٹیکسٹائل ملوں میں یہ پروگرام ابتدائی طور پرشروع کیا ہے جس کے تحت 18ٹیکسٹائل ملیں اس پروگرام کے تحت روزانہ 18میگاواٹ بجلی کی بچت کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مراسلے میں وفاقی حکومت کوباور کروایا گیا ہے کہ مذکورہ بجلی کی بچت کے پروگرام کو وسعت دینے کیلئے سرمائے کی ضرورت ہے۔ جس کے لئے حکومت کا تعاون اشد ضروری ہے تا کہ ایسی ٹیکسٹائل ملیں جو بجلی کی بچت کرنا چاہتی ہیں انہیں بینکوں سے آسان شرائط پر قرضے دیئے جائیں اور وہ اپنی اپنی ٹیکسٹائل ملوں میں عملہ کو تربیت دے کر بجلی کے ضیاع کو روکیں اور بجلی کی بچت کر سکیں کیونکہ مہنگی بجلی اور زیادہ استعمال کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی پیداواری لاگت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔حکومت کے تعاون سے نہ صرف 200میگاواٹ بجلی کی بچت ہو گی بلکہ بجلی کی بچت سے ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔ذرائع کے مطابق اپٹما کی تجویز پر وزیر اعظم محمد نواز شریف نے 4متعلقہ محکموںپلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، خزانہ، پانی و بجلی اور انڈسٹریز سے اپٹما کی تجویز قابل عمل ہونے یا نہ ہونے کی بابت سفارشات طلب کر لی ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تجویز کو وفاقی کابینہ کے سامنے رکھاجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…