جمعرات‬‮ ، 29 اکتوبر‬‮ 2026 

پیلے دانتوں کو سفید اور چمکدار کیسے بنائیں؟ جانیے آسان طریقے

datetime 29  اکتوبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)دانتوں کی صفائی اور چمک انسان کی مسکراہٹ کو دلکش بنانے کے ساتھ ساتھ منہ کی صحت برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

تاہم چائے، کافی، سگریٹ نوشی اور دانتوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ان پر پیلاہٹ اور دھبے نمودار ہو سکتے ہیں۔دانتوں کا رنگ زرد ہونے کے پیچھے مختلف عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ان میں چائے اور کافی کا زیادہ استعمال، سگریٹ نوشی، پان اور تمباکو کھانا، منہ کی صفائی میں غفلت اور عمر کا بڑھنا شامل ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ دانتوں کی بیرونی حفاظتی تہہ، جسے اینامل کہا جاتا ہے، پتلی ہونے لگتی ہے، جس سے اندرونی زرد تہہ زیادہ نمایاں دکھائی دینے لگتی ہے۔دانتوں کو صاف رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ روزانہ صبح اور رات فلورائیڈ والے ٹوتھ پیسٹ سے کم از کم دو منٹ تک برش کیا جائے۔ اس کے ساتھ دانتوں کے درمیان پھنسے ہوئے ذرات نکالنے کے لیے روزانہ ڈینٹل فلاس کا استعمال بھی مفید ہے۔بیکنگ سوڈا بعض اوقات دانتوں کی سطح پر موجود دھبے دور کرنے میں مدد دیتا ہے، اسی لیے اسے کچھ ٹوتھ پیسٹ میں شامل کیا جاتا ہے۔ تاہم گھر میں بیکنگ سوڈا استعمال کرکے بار بار دانتوں کو رگڑنے سے گریز کرنا چاہیے اور اس کے بجائے محفوظ اور معیاری ٹوتھ پیسٹ کو ترجیح دینی چاہیے۔ناریل یا تل کے تیل سے منہ میں کلیاں کرنے کے طریقے کو آئل پلنگ کہا جاتا ہے۔

یہ ایک روایتی گھریلو طریقہ ہے، لیکن اسے دانتوں پر برش کرنے اور فلاس کے استعمال کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔متوازن غذا بھی دانتوں اور مسوڑھوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ تازہ پھل اور سبزیاں کھانے سے مجموعی صحت کو فائدہ پہنچتا ہے، جبکہ چائے، کافی اور تمباکو کا استعمال کم کرنے سے دانتوں پر دھبے پڑنے کے امکانات گھٹ سکتے ہیں۔ کھانے پینے کے بعد سادہ پانی سے کلی کرنا بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔دانت سفید کرنے والی بعض مصنوعات میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ شامل ہوتا ہے، تاہم اس کیمیکل کو گھر میں خود سے تیار کرکے دانتوں پر لگانا یا اس سے کلیاں کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے دانت سفید کرنے کے لیے کسی بھی کیمیکل کا استعمال ماہرِ دندان کی ہدایت کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔ماہرین کے مطابق باقاعدگی سے برش کرنا، فلاس استعمال کرنا اور مناسب ٹوتھ پیسٹ اپنانا دانتوں کی سطح پر جمع ہونے والے دھبوں کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر دانت غیر معمولی حد تک پیلے ہو رہے ہوں یا ان کی رنگت میں اچانک تبدیلی آئے تو ڈینٹسٹ سے معائنہ کروانا بہتر ہے۔

ضرورت پڑنے پر دانتوں کی پیشہ ورانہ صفائی یا ڈاکٹر کی نگرانی میں انہیں سفید کرنے کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ صحت مند دانتوں کا بالکل سفید ہونا ضروری نہیں۔ دانتوں کی اصل خوبصورتی کے بجائے ان کی مضبوطی، صفائی اور مجموعی صحت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔



کالم



مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…