اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی ایگزٹ پولز میں وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد اور اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کے قیادت میں قائم اتحاد کے درمیان سخت مقابلے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
تاہم ابتدائی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی اتحاد حکومت بنانے کے لیے واضح اکثریت حاصل کرتا نظر نہیں آ رہا۔ابتدائی طور پر سامنے آنے والے تین ایگزٹ پولز میں سے دو میں اپوزیشن کے تبدیلی بلاک اور نیتن یاہو کے اتحاد کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دکھایا گیا ہے، جبکہ تیسرے جائزے میں وزیراعظم کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہوتی نظر آتی ہے۔ اس کے باوجود کسی بھی فریق کو پارلیمان میں حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار نشستیں ملنے کے واضح امکانات سامنے نہیں آئے۔اپوزیشن کے تبدیلی بلاک کی قیادت گادی آئزنکوٹ کر رہے ہیں، جو نئی قائم ہونے والی یاشار پارٹی کے سربراہ ہیں۔ اس اتحاد میں شامل مختلف اپوزیشن جماعتوں کا بنیادی ہدف نیتن یاہو کی حکومت کا خاتمہ اور اقتدار میں تبدیلی لانا ہے۔دوسری جانب ابتدائی انتخابی اندازوں کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی انفرادی جماعت بن سکتی ہے۔ تاہم کسی جماعت کی سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن کر ابھرنے اور حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں فرق ہے، جس کے باعث آئندہ حکومت کی تشکیل اتحادی جماعتوں کی حمایت پر منحصر ہوگی۔
اسرائیلی پارلیمان، جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، کی مجموعی طور پر 120 نشستوں کے لیے انتخابات منعقد ہوئے ہیں۔ اسرائیل میں عموماً کوئی ایک جماعت تنہا حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہیں کر پاتی، اس لیے مختلف جماعتوں کو مل کر حکومتی اتحاد تشکیل دینا پڑتا ہے۔ موجودہ انتخابی مقابلے میں چند نشستوں کا فرق بھی حکومت سازی کے امکانات پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ماضی میں ایگزٹ پولز کے اندازے حتمی انتخابی نتائج سے مختلف ثابت ہونے کے باعث موجودہ اعداد و شمار کو بھی ابتدائی تخمینے ہی سمجھا جا رہا ہے۔ سرکاری نتائج کا اعلان مقامی وقت کے مطابق نصف شب سے شروع ہوا، تاہم ووٹوں کی مکمل گنتی اور نتائج کی حتمی تصدیق میں مزید کئی دن لگنے کا امکان ہے۔تل ابیب میں موجود رپورٹر کے مطابق انتخابات کے بعد حکومت بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان طویل مذاکرات متوقع ہیں۔ ان بات چیت کے دوران مختلف جماعتوں کے ساتھ اتحاد، حکومتی عہدوں کی تقسیم اور اقتدار میں شراکت کے متعدد فارمولوں پر غور کیا جا سکتا ہے، جس کے باعث نئی حکومت کی تشکیل میں کئی ہفتے یا مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے بعد ملک کے پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ ان کے نتائج کو نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل، اسرائیل میں آئندہ حکومت کے قیام اور مستقبل کی ملکی پالیسیوں کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔



















































