اتوار‬‮ ، 25 اکتوبر‬‮ 2026 

درگزر کیا کریں

datetime 25  اکتوبر‬‮  2026

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘اس گرو پ میں جاوید چودھری صاحب بھی شامل ہیں‘ آپ جاوید چودھری صاحب سے کالم سے متعلق سوال بھی کر سکتے ہیں‘ وہ خود آپ کے سوالوں کا جواب دیں گے‘ آپ اس گروپ میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر   5362221  92332+پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم  5366774 0310موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔

درگزر کیا کریں

یہ معاملہ معمولی سی بات سے شروع ہوا تھا‘ گاڑی پٹرول پمپ پر کھڑی ہوئی‘ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے شخص نے شیشہ نیچے کر کے آرڈر دیا ’’فل کر دو‘‘ پٹرول بوائے نے دیکھا‘ وہ سگریٹ پی رہا ہے‘ اس نے درخواست کی ’’سر پلیز سگریٹ بجھا دیں‘‘ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے شخص نے بے رخی سے جواب دیا ’’میں گاڑی کے اندر بیٹھا ہوں‘ میرا سگریٹ باہر آگ نہیں لگائے گا‘‘ پٹرول بوائے نے دوبارہ عرض کیا ’’سر ہمیں سختی سے حکم ہے کسی کو سگریٹ نہیں پینے دینا‘ آگ لگ سکتی ہے‘

آپ جب تک سگریٹ نہیں بجھائیں گے‘ ہم پٹرول نہیں ڈالیں گے‘‘ یہ بات صاحب کو ناگوار گزری‘ وہ سگریٹ سمیت باہر نکلے‘ جلتی ہوئی سگریٹ پٹرول پمپ کے فرش پر پھینکی اور پٹرول بوائے کو ننگی گالیاں دینا اور مارنا پیٹنا شروع کر دیا‘ پٹرول پمپ کے ورکرز نے بڑی مشکل سے لڑکے کو بچایا‘ یہ منظر سی سی ٹی وی میں ریکارڈ ہو گیا‘ پٹرول پمپ کی انتظامیہ نے اسے سوشل میڈیا پر چڑھا دیا اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گیا‘ کلپ وزیراعلیٰ مریم نواز تک پہنچا‘ انہوں نے ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا‘ ملزم کے خلاف پرچہ درج ہوا‘ گاڑی کی نمبر پلیٹ اور نادرا کے ریکارڈ سے تلاش کیا گیا تو پتا چلا ملزم کا نام سعادت انیس بھٹی ہے‘ عمر 50 سال ہے‘ جوہر ٹائون میں شادی ہال چلا رہا ہے‘ اس کا ایک بھائی لاہور ہائی کورٹ میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ہے اور یہ جوبلی ٹائون کے اے بلاک میں رہتا ہے‘ پولیس اس کے گھر پہنچی تو اس نے اس کے ساتھ بھی ہاتھا پائی شروع کر دی‘ پولیس کے جوانوں کی وردی پھٹ گئی اور انہیں چھوٹے موٹے زخم بھی آئے‘ بہرحال قصہ مختصر سعادت انیس بھٹی کو تھانے لایا گیا‘ پٹرول بوائے کو بلایا گیا اور اسے سعادت بھٹی کے منہ پر تھپڑ مارنے کا کہا گیا‘ پٹرول بوائے غریب نوجوان تھا‘ اس میں ہمت نہیں تھی لیکن پولیس کی حوصلہ افزائی پر اس نے سعادت بھٹی کے منہ پر تھپڑ جڑ دیا‘ جوابی تھپڑ کی کارروائی کو باقاعدہ ریکارڈ کر کے وزیراعلیٰ کو بھجوا دیا گیا اور مریم نواز نے اسے اپنے ٹویٹر اکائونٹ کے ذریعے شیئر کر دیا‘ آخری اطلاعات کے مطابق سعادت انیس بھٹی پر کارسرکار میں مداخلت اور پولیس پر حملے کی دفعات کے تحت بھی پرچہ درج کر لیا گیا ہے‘ ان دفعات میں ایک دفعہ ناقابل ضمانت ہے اور اس کی سزا بھی سات سال ہے۔
ہم اگر دلیل کے ساتھ اس واقعے کا تجزیہ کریں تو چند سوال پیدا ہوتے ہیں مثلاًسعادت بھٹی شادی ہال اور ذاتی گھر کا مالک ہے‘ پچاس سال کا میچور مرد ہے اور خاندان کا سربراہ ہے‘ اس نے معمولی سی بات پر پوری دنیا میں اپنی بے عزتی بھی کرا لی‘ پولیس سے بھی مار کھا لی‘ اسے پٹرول بوائے کا تھپڑ بھی سہنا پڑا‘ یہ اب عدالتوں اور جیلوں میں بھی دھکے کھائے گا‘ اس کا کریمنل ریکارڈ بھی بن گیا اور یہ اگر سال دو سال کی ذلالت کے بعد رہا بھی ہو جاتا ہے تو یہ اپنے محلے اور برادری کو کیا منہ دکھائے گا‘ یہ اگر اس وقت پٹرول بوائے کی جائز بات مان لیتا اور سگریٹ بجھا دیتا تو یہ مصیبت سے بچ سکتا تھا اور اس کی بے عزتی بھی نہ ہوتی لیکن یہ اس وقت انا کے گھوڑے پر سوار تھا اور یہ سواری اس وقت ختم ہوئی جب یہ پولیس کسٹڈی میں منہ پر تھپڑ کھا رہا تھا‘ اس کھیل میں اس نے کیا کمایا؟ میرا خیال ہے یہ پاگل پن تھا اور یہ پاگل پن اس وقت پورے ملک میں کامن ہے‘ لوگ لوگوں کے گلے پڑتے ہیں اور اس میں انتہا تک چلے جاتے ہیں‘ یہ ایک عنصر ہے جب کہ دوسرا عنصر اس سے زیاہ خطرناک ہے‘ میں بھی اسی معاشرے میں رہتا ہوں‘ میں پٹرول بوائے کے رویے کو بھی ’’رول آئوٹ‘‘ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں‘ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو بولنے کی تمیز نہیں‘ ہم جائز بات بھی اس قدر ناجائز طریقے سے کرتے ہیں کہ دوسرے کے دماغ کے سارے فیوز اڑ جاتے ہیں لہٰذا عین ممکن ہے پٹرول بوائے نے سگریٹ بجھانے کا حکم نہایت بدتمیزی کے ساتھ دیا ہو اور اس کے لہجے نے اس شخص کا فیوز اڑا دیا ہو‘ دنیا میں جہاں دھواں ہوتا ہے وہاں آگ بھی ہوتی ہے‘ جہاں بھی فساد ہوتا ہے وہاں کوئی باعث فساد بھی ہوتا ہے لہٰذا عین ممکن ہے غلطی پٹرول بوائے کی بھی ہو مگر اس کے باوجود اس شخص کو اپنی عزت کا خود خیال رکھنا چاہیے تھا‘ اللہ نے اگر اسے خوش حالی‘ بڑی گاڑی اور دولت دے دی تھی تو اسے اس کے ساتھ عاجزی اختیار کرنی چاہیے تھی‘ اسے دوسروں کا لہجہ برداشت کرنے کی ہمت پیدا کرنی چاہیے تھی‘ ہمارے معاشرے میں سب سے ’’کم یاب‘‘ چیز سیلف ریسپیکٹ (عزت نفس) ہے یوں محسوس ہوتا ہے ہمیں اس جنس کی اس ملک میں ضرورت ہی نہیں لہٰذا ہم دوسروں اور دوسرے ہماری عزت نفس کچلتے دیر نہیں لگاتے‘ ہو سکتا ہے لڑکے نے اس کی عزت نفس کچل دی ہو لیکن میں اس کے باوجود اس شخص کو ذمہ دار سمجھتا ہوں‘ اسے گاڑی سے اتر کر پٹرول بوائے پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا‘ اسے اگر لڑکے کا رویہ ٹھیک نہیں لگا تو اسے چاہیے تھا یہ فوراً سگریٹ بجھا دیتا اور معذرت کر لیتا اور اگر اس کے باوجود لڑکے کی تقریر جاری رہتی تو یہ میری طرح چپ چاپ کسی دوسرے پٹرول پمپ کی طرف چلا جاتا لیکن گالی دینا اور گاڑی سے اتر کر ہاتھ اٹھانا یہ ناقابل برداشت ہے‘ اب یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے‘ کیا کوئی شخص صرف سگریٹ بجھانے کی درخواست پر اس حد تک جا سکتا ہے‘ کیا وہ گالی دے سکتا ہے اورکسی کو پھینٹا لگا سکتا ہے‘ میرا ذہن نہیں مانتا‘ اس میں کچھ نہ کچھ غلطی اس لڑکے کی بھی ہو گی‘ میں خود بڑا عرصہ اس قسم کے رویوں کا سامنا کرتا رہا ہوں۔
مجھے 2017ء میں احسن اقبال نے پلاننگ ڈویژن میں کسی برین سٹارمنگ سیشن میں دعوت دی‘ میں ڈرائیور کے ساتھ وفاقی سیکرٹریٹ چلا گیا‘ احسن اقبال کے عملے نے میرا نام اور گاڑی نمبر گیٹ پر لکھوا دیا تھا‘ میں جب گیٹ پر پہنچا تو وہاں کھڑے پولیس اہلکار نے نہایت بدتمیزی کے ساتھ گاڑی سائیڈ پر کھڑی کرنے کا حکم دیا‘ اس کے رویے نے میرے ڈرائیور کو پاگل کر دیا اور وہ دونوں گتھم گتھا ہو گئے‘ میں چھڑانے کے لیے نیچے اترا تو میں دونوں کے درمیان پھنس گیا‘ میں نے محسوس کیا پولیس مین کے پاس اگر اس دن پستول ہوتا تو اس نے میرے ڈرائیور یا مجھے فارغ کر دینا تھا‘ میں نے بڑی مشکل سے ڈرائیور کو کنٹرول کیا اور گیٹ سے واپس آ گیا‘ احسن اقبال کے فون پر میں دوبارہ واپس گیا تو پولیس اہلکار ہمیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا اور یہ پاک سیکرٹریٹ کے گیٹ کی صورت حال تھی‘ پولیس ناکوں‘ عمارتوں کے گیٹس اور سڑکوں پر بدتمیزی عام ہے‘ آپ کی گاڑی اگر کسی سگنل پر رک جائے تو بھکاری شیشہ بجا بجا کر آپ کو پاگل کر دیں گے‘ ریستوران اور کافی شاپس میں ویٹرز آپ کا موڈ برباد کر دیتے ہیں اور آپ اگر کبھی کسی بینک میں چلے جائیں تو آپ کو جو ’’سروس‘‘ وہاں ملے گی آپ باقی زندگی اسے یاد کرتے رہیں گے‘ہمیں ماننا پڑے گا بدتمیزی‘ ناشائستگی اور بلاوجہ بحث ہمارے ’’ڈی این اے‘‘ کا حصہ ہے‘ دوسروں پر غیر ضروری تنقید‘ اکڑ‘ پھنے خانی اور اوئے کہہ کر مخاطب کرنا یہ ہماری روایت ہے اور آپ کو یہ روایت پارلیمنٹ سے پٹرول پمپ تک ہر جگہ نظر آتی ہے چناں چہ آپ کسی جگہ چلے جائیں آپ کو وہاں لوگ جھگڑتے‘ بدتمیزی کرتے اور ایک دوسرے کو گالی گلوچ کرتے ملیں گے‘ یہ کیوں ہے؟ اس کی دو وجوہات ہیں‘ ایک ہم سب کو یقین ہے اس ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں‘ ہم نے اگر کسی کو پھینٹا لگا دیا یا گاڑی تلے روند دیا تو کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا لہٰذا ہم گالی سے گولی تک سب کچھ کر گزرتے ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں آپ یو اے ای‘ ایران اور یورپ میں یہ کر کے دیکھیں ریاست آپ کو آسمان سے کھینچ کر پاتال کے اس حصے میں لا پھینکے گی جہاں آپ کو اپنی آواز بھی سنائی نہیں دے گی چناں چہ لوگ وہاں یہ غلطی نہیں کرتے‘ لوگووہاں ایکسکیوزمی کہہ کر پٹرول بوائے اور ویٹر سے مخاطب ہوتے ہیں اور گیٹ کیپر اور ڈور بوائے آپ کو سر اور سوری کہہ کر بات شروع کرتے ہیں‘ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا مریم نواز نے نوٹس لینا شروع کیے ہیں تو پنجاب میں صورت حال بہتر ہو رہی ہے‘ مجھے یقین ہے پٹرول پمپ پر کم از کم آئندہ کوئی شخص یہ حرکت نہیں کرے گا‘ یہ سگریٹ نہیں جلائے گا اور اگر کسی لڑکے نے اسے منع کیا تو وہ گالی اور تھپڑ کی غلطی بالکل نہیں کرے گا‘ دو‘ ہماری من حیث القوم تربیت نہیں ہے‘ ہمیں گھر سے دفتر تک کوئی بولنے کی ٹریننگ نہیں دیتا تھا‘ ہم خوشامد کرتے ہیں یا بدتمیزی‘ہمارے پاس صرف دو ہی آپشن ہوتے ہیں‘ ہم شائستہ ابلاغ کی نعمت سے قطعی محروم ہیں‘ ہمارے پاس دو ہی ایکسپریشن ہیں‘ سر یا اوئے اور یہاں سے مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔
ہمارے ایک بزرگ ہوتے تھے‘ وہ پوری زندگی خوش اور خوش حال رہے‘ میں نے انہیں کبھی کسی کے ساتھ لڑتے نہیں دیکھا‘ لوگ بھی ان کی بے انتہا عزت کرتے تھے‘ میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے ہنس کر جواب دیا‘ میں نے پوری زندگی دوسروں کو عزت دی‘ میں کتے کو بھی کتا صاحب کہتا رہا لہٰذا مجھے جواب میں ہمیشہ عزت ملی‘ دوسرا میں نے شروع ہی میں چند قدم پیچھے ہٹنا سیکھ لیا تھا‘ میرے ساتھ اگر کوئی زیادتی کر جاتا تھا تو میں اسے جواب دینے کی بجائے وہاں سے چپ چاپ چلا جاتا تھا‘ وہ شخص خود بخود اپنی زیادتی کا اندازہ کر کے مجھ سے معافی مانگ لیتا تھا‘ میں نے کبھی زیادتی کا جواب زیادتی کی شکل میں نہیں دیا‘ تیسرا میں نے شکریے اور معافی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا‘ میں فوراً شکریہ ادا کرتا تھا اوراپنی بات کے دوران تین چار مرتبہ معافی مانگتا تھا‘ اس وجہ سے لوگ میرے ساتھ الجھتے نہیں تھے اور چوتھا اور آخری اصول میں نے شروع میں سیکھ لیا تھا عاجزی اور مٹھاس دنیا میں اچھی زندگی گزارنے کے شان دار ترین گر ہیں‘میں نے زندگی میںانہیں کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا‘ میں آج سوچتا ہوں ہمارے بزرگ کتنے سمجھ دار تھے‘ وہ اگر یہ نہ کرتے تو ان کے ساتھ اس معاشرے میں کیا کیا نہ ہوتا‘ کیا خوب کہا کسی نے’’ انسان کی زبان میں ہڈی نہیں ہوتی لیکن یہ آپ کی ساری ہڈیاں تڑوا سکتی ہے‘‘ آپ بھی اپنی ہڈیاں بچائیں‘ عاجزی اختیار کریں‘ درگزر کرنا سیکھیں‘ آپ کی زندگی اچھی گزرے گی ورنہ آپ بھی سعادت بھٹی بن جائیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



درگزر کیا کریں


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…