اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نگرانی میں کام کرنے والے ڈیجیٹل بینک ایزی پیسہ نے صارفین کے اکاؤنٹس، نجی معلومات اور مالی لین دین کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔
بینک کے مطابق صارفین کو دھوکا دہی اور دیگر مالیاتی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک جامع سکیورٹی نظام تشکیل دیا گیا ہے۔ایزی پیسہ کا کہنا ہے کہ ادارہ ’ٹرسٹ بائی ڈیزائن‘ کے اصول کے تحت کام کرتا ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل مصنوعات اور خدمات کی تیاری کے ابتدائی مراحل ہی سے سکیورٹی، رازداری اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔بینک کے مطابق محفوظ اور سہل ڈیجیٹل بینکاری کی فراہمی کے لیے مختلف جدید حفاظتی طریقے اپنائے گئے ہیں۔ ان میں ون ٹائم پاس ورڈ (OTP)، نادرا کے ڈیٹا بیس سے منسلک بائیومیٹرک تصدیق، صارف کی حقیقی موجودگی جانچنے کا نظام (Liveness Detection) اور صارف کی شناخت کی تصدیق کے لیے بہتر طریقۂ کار (KYC) شامل ہیں۔ایزی پیسہ کے مطابق ان اقدامات کے ذریعے صارفین کی شناخت کی جانچ، غیر متعلقہ افراد کی جانب سے اکاؤنٹس تک رسائی کی روک تھام اور مالیاتی معلومات کا تحفظ مزید مؤثر بنایا جاتا ہے۔
ان انتظامات کے ساتھ صارفین کو ڈیجیٹل بینکاری کی سہولت اور آسانی فراہم کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔بینک نے بتایا کہ ممکنہ فراڈ کی نشاندہی کے لیے مشکوک سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے اور صارفین کو خطرے کی صورت میں بروقت آگاہ کیا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت لاگ اِن کی ناکام کوششوں، کسی نئی یا غیر مانوس ڈیوائس سے اکاؤنٹ کھولنے، اکاؤنٹ یا سم کی منتقلی، مقام میں غیر معمولی تبدیلی اور خطرے والے مالی لین دین پر نظر رکھی جاتی ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ نگرانی اور فوری اطلاعات کے اس نظام سے صارفین کو فراڈ کے نئے طریقوں سے خبردار رہنے اور اپنے اکاؤنٹس کی حفاظت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
ایزی پیسہ نے مالیاتی معلومات کی حساسیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین کے ڈیٹا کی رازداری برقرار رکھنا اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا ادارے کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔بینک کے مطابق ریگولیٹری اداروں کے ساتھ رابطے، قوانین پر عمل درآمد، خطرات کے مؤثر انتظام اور گورننس کے سخت اصولوں کے ذریعے صارفین کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں صارف کی شناخت کی تصدیق (KYC) کے ساتھ کاروباری اداروں کی شناخت اور جانچ کے طریقۂ کار (KYB) کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔ایزی پیسہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ڈیجیٹل مالیاتی خدمات میں جدت کے ساتھ جدید سکیورٹی نظام، دھوکا دہی کی روک تھام اور صارفین کے تحفظ کے اقدامات میں سرمایہ کاری جاری رکھی جائے گی، تاکہ پاکستان کے لاکھوں صارفین کو محفوظ، قابلِ اعتماد اور مستحکم ڈیجیٹل بینکاری کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔



















































