اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاور ڈویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ مختلف اقدامات کے باعث ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف پی اے) میں متوقع اضافے کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
حکام کے مطابق فی یونٹ ایڈجسٹمنٹ 6 روپے تک پہنچنے کا خدشہ تھا، تاہم اب اس کے 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
پاور ڈویژن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس پیش رفت سے بجلی صارفین کو فی یونٹ 3 روپے 44 پیسے کے ممکنہ اضافی بوجھ سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ حکام نے بجلی کی پیداوار میں مہنگے متبادل ایندھن کے استعمال کے مالی اثرات محدود رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر کے دوران روزانہ تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے تک محدود لوڈ مینجمنٹ کی گئی۔ اس حکمت عملی کا مقصد مہنگے ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی کے اخراجات کم کرنا اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں ممکنہ اضافے کو قابو میں رکھنا تھا۔
پاور ڈویژن کے مطابق لوڈ مینجمنٹ کو ہدفی بنیادوں پر استعمال کرکے بجلی کے شعبے پر اضافی مالی دباؤ کم کرنے کی کوشش کی گئی، تاکہ اس کے اثرات صارفین کے بلوں پر کم سے کم پڑیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ درآمدی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے مہنگے ہونے سے بجلی کی پیداوار پر پڑنے والے اثرات کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔ ان کوششوں کا بنیادی مقصد پیداواری لاگت کو محدود رکھنا اور صارفین پر منتقل ہونے والے اضافی اخراجات میں کمی لانا ہے۔
پاور ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما میں گھریلو صارفین کی جانب سے گیس کی طلب بڑھنے کے باعث اس کی دستیابی متاثر ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں بجلی کے نظام کی ضروریات پوری کرنے اور پیداوار کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے درآمدی ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) پر انحصار برقرار رہنے کا امکان ہے۔
اعلامیے کے مطابق ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ رہنے کی توقع ہے۔ تاہم صارفین کے بجلی بلوں میں اس کے حتمی اطلاق اور واجب الادا رقم کا تعین متعلقہ حکام کے فیصلے اور باضابطہ نوٹیفکیشن کے بعد ہوگا۔



















































