پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

(ن) کو ووٹ دینے والے کیا مانگتے ہیں؟عمران خان کو کسی ”مشورے “کی ضرورت نہیں،شیخ رشیدپھر بول پڑے

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2015 |
LAHORE, PAKISTAN, DEC 15: Awami Muslim League (AML) Chief, Sheikh Rashid Ahmed addresses press conference in Lahore on Thursday, December 15, 2011. (Babar Shah/PPI Images).

لاہور( نیوزڈیسک)عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ صرف ریاستی ادارے ہی نہیںبلکہ (ن) لیگ کو ووٹ دینے والے بھی حکومت سے گڈ گورننس کا تقاضہ کر رہا ہے ،تعلیم اورصحت سمیت عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے منصوبے اس لئے شروع نہیں کئے جاتے کیونکہ ان کی لاگت کم ہونے کی وجہ سے بہت کم” حصہ “ نکلتاہے ،عمران خان سمجھدار انسان ہیں انہیں کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں۔ایک انٹر ویو میں شیخ رشید نے کہا کہ پورا لاہور اورنج لائن ٹرین منصوبے کے خلاف سڑکوں پر ہے لیکن حکمران عوام کی لاشوں پر سے اس کا روٹ گزارنے پر بضد ہیں ۔ آج عوام سوال کرتے ہیں کیا پاکستان میں دودھ اورشہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، کیا سرکاری سکولوںمیں سہولیات پہنچا دی گئی ہیں ،سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کو ادویات میسر ہیں کہ اربوں روپے سے پل کھڑے کرکے وہاں بسیں اورٹرینیں دوڑانے کوترجیح دی جارہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ عوام کو بھی اب سوچ بچا ر کرنا ہوگی وگرنہ موجودہ حکمران تو ہماری آنے والی کئی نسلوںکو پیشگی گروی رکھ دینے کے درپے ہیں۔ شیخ رشید نے مزید کہا کہ گڈ گورننس کے حوالے سے بیان کے بعد حکومت کی طرف سے جس طرح سب اچھا کا تاثر دیا جارہا ہے حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…