لاہور( این این آئی)ایجنٹ کے فراڈ سے دلبرداشتہ ہو کر مبینہ طور پر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کے والد محمد اعجاز نے کہا ہے کہ اب زندگی بھر کا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ اپنی بیٹی کے خواب پورے ہوتے نہیں دیکھ سکوں گا ،
لائبہ ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسی سائنسدان بننے کی خواہش رکھتی تھی، اعلی تعلیم کے لیے امریکہ جانا چاہتی تھی اور اس کو 20 اکتوبر پاکستان چھوڑنا تھا جس کے لیے فلائٹ بھی طے ہوچکی تھی لیکن اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ اور اس سے وابستہ صدمہ نہ جھیل پاتے ہوئے وہ دنیا ہی چھوڑ گئی،میری بیٹی نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے،لائبہ سے20 لاکھ روپے کا مطالبہ کرکے ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا اور بعد میں اس کی لاش ملی، مطالبہ ہے قتل کے پہلو پر بھی تحقیقات کی جائے۔ ایک انٹر ویو میں لائبہ کے والد اعجاز نے کہا کہ مجھے ساری زندگی اس بات کا پچھتاوا رہے گا کہ میں نے خود کو سپریم کورٹ کا رجسٹرار ظاہر کرنے والے ایجنٹ نعمان کے دعوئوں کی تصدیق کیوں نہیں کی۔ نہ وہ سپریم کورٹ جاکر اس کی حیثیت معلوم کرسکے اور نہ ہی اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 13 میں قائم اس کی کنسلٹنسی ایجنسی کے دفتر جاکر معلومات حاصل کیں۔ بعد میں نعمان کے تمام دعوے جعلی ثابت ہوئے اور ان کے خاندان کے ساتھ 93 لاکھ روپے کا فراڈ ہوا جس کے بعد ان کی ہونہار بیٹی کی زندگی بھی ختم ہوگئی۔محمد اعجاز نے کہا کہ نعمان نے جب 26 ہزار ڈالر اپنے بینک اکائونٹ میں جمع کروائے تو انہیں پہلی مرتبہ شک ہوا بعد ازاں اس نے یہ رقم لائبہ کے اکائونٹ میں منتقل کردی تاکہ بینک اسٹیٹمنٹ تیار کیا جاسکے تاہم اس کے بعد وہ ٹرانزیکشن بھی جعلی ثابت ہوئی۔اس انکشاف سے لائبہ کو شدید صدمہ پہنچا اور وہ اس بات پر بے حد دکھی تھی کہ اس کے برسوں کے خواب ریزہ ریزہ ہوگئے لہٰذاوہ اس صدمے سے بالکل ٹوٹ کر رہ گئی تھی۔لائبہ کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی سے آخری مرتبہ جمعہ 9 اکتوبر کو بات ہوئی تھی اور وہ اس وقت پریشان تھی جس کے بعد وہ اچانک گھر سے چلی گئی۔جب اس کے موبائل فون کی لوکیشن ٹریس کی گئی اور اس تک پہنچا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 میں ایک درخت سے بیجان لٹکی ہوئی ہے۔
محمد اعجاز کا دعوی ہے کہ ان کی بیٹی نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے۔والد نے کہا کہ لائبہ کے بقول اس سے20 لاکھ روپے کا مطالبہ کرکے ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا اور بعد میں اس کی لاش ملی۔ والد نے اس واقعے کو قتل قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس پہلو سے بھی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ محمد اعجاز کے مطابق لائبہ کی ملزم نعمان سے پہلی ملاقات ایک کال سینٹر میں انٹرویو کے دوران ہوئی تھی جہاں اس نے بتایا تھا کہ وہ پارٹ ٹائم کام کرتا ہے،اس کے بعد نعمان ان کی دکان پر بھی آنے لگا اور رفتہ رفتہ اسے رقم دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔لائبہ کے امریکہ میں داخلے اور تعلیم کے لیے درکار رقم جمع کرنے کی غرض سے سونے کے زیورات بھی فروخت کیے گئے جنہیں نعمان نے خود فروخت کروایا تھا۔لائبہ کی امریکہ روانگی سے متعلق تمام انتظامات بظاہر مکمل دکھائی دے رہے تھے،لائبہ کا انٹرویو ہونا تھا جبکہ 20 اکتوبر کو امریکہ روانگی کے لیے اس کی فلائٹ بھی طے تھی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تمام معاملات مبینہ فراڈ کا حصہ تھے۔محمد اعجاز نے بتایا کہ ملزم نعمان کی ایک ساتھی عائزہ نامی خاتون بھی لائبہ سے رابطے میں تھی جو خود کو ہارورڈ یونیورسٹی کی ملازمہ ظاہر کرتی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ملزم نعمان نے ان کے ایک بیٹے کو سپریم کورٹ میں ملازمت دلوانے کا جھانسہ دے کر بھی 5 لاکھ روپے وصول کیے۔محمد اعجاز نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث تمام ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ کسی اور خاندان کو اس اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔



















































