ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر زور دار دھماکے کی آواز سنائی دینے کے بعد سکیورٹی انتظامات اور فضائی آپریشنز کے حوالے سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے کے نتیجے میں متعدد مسافر زخمی ہوئے ہیں، تاہم دھماکے کی وجہ اور نقصانات سے متعلق مکمل سرکاری تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دھماکے کی اطلاع عینی شاہدین اور واقعے سے آگاہ ذرائع نے دی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کو دو علاقائی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واقعے کے بعد ایئرپورٹ کو خالی کرانے اور فضائی آمدورفت روکنے کے اقدامات کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق حملے میں کم از کم پانچ مسافر زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ بعض اطلاعات میں زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہونے کا ذکر بھی کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے آزادانہ تصدیق اور حکام کی جانب سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
مسافروں کو ایئرلائن سے رابطے کی ہدایت
ایئرپورٹ انتظامیہ نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ روانگی سے قبل اپنی متعلقہ ایئرلائن سے رابطہ کرکے پروازوں کی تازہ صورتِ حال معلوم کرلیں۔ واقعے کے بعد فضائی آپریشنز کی بحالی اور پروازوں کے شیڈول سے متعلق معلومات پر نظر رکھی جارہی ہے۔
دھماکے کی اصل وجہ، ممکنہ جانی نقصان اور سکیورٹی صورتِ حال کے بارے میں حکام کی جانب سے مزید تفصیلات جاری کیے جانے کا انتظار ہے۔
رواں ہفتے بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب رواں ہفتے ریاض ایئرپورٹ پر حملوں اور ان کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق جمعرات کو ہونے والے دو حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ ان واقعات کے دوران سعودی ایئرلائن کے ایک طیارے کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ اس سے قبل ہونے والے حملوں کی ذمہ داری حوثی گروپ نے قبول کی تھی۔
پاکستان سے سعودی عرب جانے والی پروازوں کی صورتِ حال
دوسری جانب پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے 9 اکتوبر کو بتایا تھا کہ سعودی عرب کے لیے پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔ تاہم پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے ریاض کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کردی تھیں۔
مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سعودی عرب جانے یا وہاں سے پاکستان واپس آنے سے پہلے اپنی ایئرلائن سے پرواز کے شیڈول کی تصدیق ضرور کرلیں۔



















































