اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں متوقع ہیں اور سسٹم ری سیٹ ہونے کے بعد معاملات میں بہتری آئے گی۔ حکومت کاروباری طبقے کی سہولت کے لیے بزنس پاسپورٹ پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد تاجروں کے لیے بیرون ملک سفر آسان بنانا ہے۔
لاہور چیمبر آف کامرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کو اپنی برآمدات میں اضافے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق حکومت میں رہتے ہوئے اہداف کے حصول کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے، اس لیے ملکی معیشت کی بہتری کے لیے عملی منصوبہ بندی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ان ممالک کے تجربات سے بھی سیکھنا چاہیے جو مختلف پابندیوں کے باوجود اپنی صنعتی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں تعمیراتی شعبے اور آٹو انڈسٹری سمیت مختلف شعبوں کی مصنوعات مقامی طور پر تیار کی جا رہی ہیں، لہٰذا پاکستان بھی اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا سکتا ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ تین سے چار ماہ کے دوران مذاکرات کے سلسلے میں ایران کے متعدد دورے کیے۔ ان کے مطابق ایران کے حالات کے بارے میں پہلے مختلف تصورات پائے جاتے تھے، تاہم وہاں جا کر واپس آنے والے افراد نے ملک میں جاری صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کو دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے برآمدات بڑھانا ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لیے قابل عمل حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
وزیر داخلہ نے لاہور چیمبر کے نومنتخب ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ تاجروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کاروباری برادری کی مدد کے لیے 24 گھنٹے دستیاب ہیں اور اس سے قبل بھی تاجروں کے مسائل حل کرانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔
بزنس پاسپورٹ منصوبے کے حوالے سے محسن نقوی نے بتایا کہ حکومت گزشتہ کئی ماہ سے اس پر کام کر رہی ہے۔ تاجروں کو ویزوں کے حصول میں پیش آنے والی دشواریوں کے بارے میں متعلقہ سفارت خانوں کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ بزنس پاسپورٹ کی تجویز وزیراعظم کے سامنے پیش کی جائے گی، جس سے کاروباری افراد کو بیرون ملک سفر کے دوران ویزا سے متعلق مسائل میں سہولت مل سکے گی۔



















































