پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

وہ 10ممالک جہاں پہنچ کرپاکستانی امیرہوجاتے ہیں

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستانی روپیہ زوال پذیر ہے اور بیرون ملک سیرو سیاحت کی غرض سے جانے والے پاکستانی باشندوں کو دوسرے ممالک کی کرنسی سے تبادلہ کرتے وقت اپنی کرنسی ہیچ نظر آتی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں ایسے متعدد خوبصورت ترین ممالک ہیں جہاں پہنچ کر پاکستانی سیاح خود کو امیر سمجھنے لگتے ہیں اور ان کی نظروں میں اپنے روپے کی قدر بھی بڑھ جاتی ہے۔ ذیل میں کچھ ایسے ہی ممالک کا ذکر کیا جا رہا ہے جو قدرتی مناظر سے بھرپور ہیں اور سال بھر سیاحوں کی توجہ کامرکز بنے رہتے ہیں۔ نیز یہاں پاکستانی کم رقم خرچ کر کے بہتر انداز میں لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ایران میں پاکستانی ایک روپے کی قدر 284 ایرانی ریال کے مساوی ہے۔ انڈونیشیا میں پاکستانی ایک روپے کی وقعت 129 انڈونیشین روپے کے برابر ہے۔ کولمبیا میں ایک پاکستانی روپے کے بدلے تقریباً 30 کولمبین پیسو ملتے ہیں۔ یورپی ملک آئس لینڈ میں پہنچ کر پاکستانی ایک روپے کی قدر 1.25 آئرک لینڈک کرونا ہو جاتی ہے۔ ہنگری میں پاکستانی ایک روپے کے بدلے پونے تین ہنگیرین فورنٹ ملتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جاپان کی کرنسی بھی پاکستان سے کم ہے اور یہاں ایک پاکستانی روپے کے بدلے 1.61 جاپانی ین حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ چلی کے پیسو کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر تقریباً سات گنا زیادہ ہے۔ وسطی ایشیا کے ملک قازقستان کے 2.92قازقستانی ٹینگ ایک پاکستانی روپے کے مساوی ہیں۔ ایک اور ترقی یافتہ ملک جنوبی کوریا میں پاکستانی روپے کی وقعت 11 گنا بڑھ جاتی ہے۔ ایک پاکستانی روپے کی قدر1.35سری لنکن روپے کے مساوی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…