پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد کے مستقبل کا نیا نقشہ وزیراعظم کو پیش کردیا گیا

datetime 7  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی دارالحکومت کو نئے انتظامی ماڈل میں ڈھالنے کی تیاری کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق مجوزہ ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کردیا جس میں اسلام آباد کو صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خودمختاری دینے، منتخب اسمبلی اور اپنے چیف ایگزیکٹو کے قیام کی سفارش کی گئی ہے۔مجوزہ ڈرافٹ کے مطابق 27 رکنی اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی قائم کرنے کی تجویز ہے، جس میں 21 ارکان براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں گے، جبکہ خواتین کے لیے 5 اور اقلیتوں کے لیے ایک مخصوص نشست رکھی جائے گی۔اسمبلی کے انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تحت کرانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ ارکان پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ہوگا۔ڈرافٹ میں اسلام آباد کے لیے منتخب چیف ایگزیکٹو مقرر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جو میئر یا وزیراعلی کہلائے گا اور منتخب اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہوگا۔

دارالحکومت کے انتظامی امور چلانے کے لیے چیف سیکرٹری اور چار سیکرٹریز تعینات کرنے جبکہ حکومت کے تحت 27 انتظامی محکمے قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری سہولیات سمیت متعدد شعبے منتخب اسلام آباد حکومت کے دائرہ اختیار میں دینے کی تجویز ہے، جبکہ قانون و امن اور ماسٹر پلاننگ کے معاملات وفاق کے پاس رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔سی ڈی اے کے تمام اختیارات اور فرائض بھی اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت کو منتقل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔مجوزہ نظام کے تحت لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت کام کرنے والے دیگر اداروں کے فرائض بھی اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔اسلام آباد میں قائم اداروں کو پورے آئی سی ٹی کے لیے کام کرنے کا پابند بنانے کی تجویز ہے جب کہ پورے پاکستان کے لیے قائم وفاقی ادارے بدستور اسلام آباد میں کام کرتے رہیں گے۔

خصوصی کمیٹی نے اسلام آباد کے نئے انتظامی نظام کے لیے جامع اور متحدہ قانون سازی کی سفارش کی ہے، جس میں سی ڈی اے آرڈیننس 1960 میں ضروری آئینی ترامیم بھی شامل ہوں گی، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت کو اپنے امور چلانے کے لیے قواعدِ کار خود مرتب کرنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی ڈرافٹ کا حصہ ہے۔خیال رہے کمیٹی میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیر مصدق ملک سمیت اعلی انتظامی و مالیاتی حکام شامل رہے۔مزید برآں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری تعلیم، سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے نے بھی نئے گورننس ماڈل کی تیاری میں حصہ لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…