اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) بھارتی فضائیہ کے سابق فائٹر پائلٹ ابھینندن ورتمان کی فوجی سروس سے ریٹائرمنٹ اور نجی ایئر لائن میں شمولیت کے بعد
بھارتی فضائیہ کے پائلٹس کے استعفوں اور سروس چھوڑنے کے اعداد و شمار ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ابھینندن ورتمان 2019 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران عالمی سطح پر خبروں میں آئے تھے۔ فضائی جھڑپ کے دوران ان کا مگ 21 طیارہ پاکستان میں گر گیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ پاکستان نے چند روز بعد انہیں انسانی بنیادوں پر رہا کردیا تھا۔ بعد ازاں بھارتی حکومت نے انہیں ویر چکر سے بھی نوازا۔حالیہ رپورٹ کے مطابق ابھینندن گروپ کیپٹن کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد گوا کی علاقائی ایئر لائن FLY91 سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ ان کی نجی شعبے میں منتقلی نے بھارتی فضائیہ سے تربیت حاصل کرنے والے پائلٹس کے کمرشل ایوی ایشن کی طرف جانے کے معاملے کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔رپورٹ میں بھارتی حکومت سے حاصل کردہ رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 2019 سے پہلے کے 10 برس کے دوران بھارتی فضائیہ کے 798 پائلٹس نے استعفے دیے۔ ان میں سے 289 پائلٹس کو نجی ایئر لائنز میں ملازمت کے لیے این او سی بھی جاری کیے گئے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بعض سالوں میں فضائیہ سے مستعفی ہونے والے پائلٹس کی تعداد 100 سے بڑھ کر 114 تک پہنچ گئی۔ رپورٹس میں پائلٹس کے سروس چھوڑنے کی ممکنہ وجوہات میں مالی مراعات سے عدم اطمینان، اعلیٰ عہدوں پر پرواز کے محدود مواقع، اضافی دفتری ذمہ داریاں اور سروس سے متعلق شرائط شامل کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ سینئر افسران کے ساتھ پیشہ ورانہ اختلافات اور کمرشل ایوی ایشن میں دستیاب بہتر مواقع کو بھی فوجی پائلٹس کے نجی شعبے کا رخ کرنے کی اہم وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے۔ابھینندن کی ریٹائرمنٹ کے بعد FLY91 سے وابستگی نے بھارتی فضائیہ کے لیے تربیت یافتہ پائلٹس کو طویل عرصے تک سروس میں برقرار رکھنے اور افرادی قوت سے متعلق چیلنجز پر ایک مرتبہ پھر بحث کو جنم دے دیا ہے۔



















































