اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اگر مصروف معمول کے باعث پورے ہفتے نیند کا دورانیہ کم رہتا ہے تو ہفتہ وار تعطیل کے دوران ایک سے دو گھنٹے اضافی نیند لینا صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
نئی طبی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس عادت سے ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔جنوبی کوریا کی سیئول یونیورسٹی سے وابستہ محققین نے اس حوالے سے 40 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ یہ معلومات 2016 سے 2023 کے دوران جمع کی گئی تھیں، جن کی بنیاد پر ہفتہ وار چھٹی کے دن اضافی نیند اور بلڈ پریشر کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔طبی ماہرین عمومی طور پر صحت مند زندگی کے لیے سونے اور جاگنے کے معمول میں تسلسل برقرار رکھنے کی تجویز دیتے ہیں، تاہم نئی تحقیق کے مطابق ہفتے کے دوران نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں تعطیل کے دن مناسب اضافی نیند بھی جسم کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق وہ افراد جو معمول کے دنوں میں کم سوتے ہیں، اگر ہفتہ وار چھٹی کے دوران اپنی نیند میں ایک سے دو گھنٹے کا اضافہ کریں تو ان میں ہائی بلڈ پریشر کا امکان کم ہوسکتا ہے۔ تاہم محققین کے مطابق اس سے زیادہ اضافی نیند لینے سے ایسا اضافی فائدہ نظر نہیں آیا۔محققین نے بتایا کہ تعطیل کے دن اضافی نیند لینے سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ مجموعی طور پر تقریباً 6 فیصد تک کم دیکھا گیا، جبکہ جسمانی سرگرمی سے دور افراد میں یہ کمی 6.9 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ تقریباً ایک گھنٹہ 37 منٹ اضافی نیند لینے والے افراد میں ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں تقریباً 9 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 37 سے 79 سال کی عمر کے تقریباً ایک ارب 40 کروڑ افراد ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہیں۔ یہ کیفیت صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت متعدد قلبی مسائل کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
محققین کے مطابق مسلسل کم نیند جسم میں تناؤ کی کیفیت پیدا کرسکتی ہے، جس کے باعث دل اور خون کی شریانوں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہوسکتا ہے۔تحقیق میں کہا گیا کہ دفتری مصروفیات یا دیگر وجوہات کی بنا پر اگر کسی شخص کی ہفتے کے دوران نیند پوری نہیں ہو پاتی تو ہفتہ وار تعطیل میں مناسب اضافی نیند اس کمی کو کسی حد تک پورا کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔اس تحقیق کے نتائج یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی سالانہ کانفرنس میں پیش کیے گئے۔



















































