منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

40ملین پاکستانیوں کے اکائونٹ کرپٹو میں ہیں، بلال بن ثاقب کا قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں انکشاف

datetime 31  اگست‬‮  2026 |

ورچوئل ریگولیشن میں بھارت سے آگے ہیں، انڈیا نے ورچوئل اثاثے پر 30 فیصد ٹیکس لگا دیا،

ہم پاکستان میں ایسا نہیں کرنا چاہتے،چیئرمین پاکستان ورچول اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی
اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین پاکستان ورچول اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب کا کہنا ہے 40 ملین پاکستانیوں کے اکائونٹ کرپٹو میں ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین پاکستان ورچول اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے بتایا کہ پوری دنیا کی مارکیٹ میں یہ ٹیکنالوجی چل رہی ہے، دبئی، تھائی لینڈ کی حکومتیں یہ کررہی ہیں، نوجوان اپنے آپ کو معاشی طور پر آزاد چاہتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں نے پاکستان کی تیسری بڑی کرپٹو مارکیٹ بنا دی ہے، 40 ملین پاکستانیوں کے اکائونٹ کرپٹو میں ہیں، آٹھ سال تک اسٹیٹ بینک نے ڈیجیٹل اثاثے پر پابندی لگائے رکھی، ٹیکنالوجی پر پابندی لگاکر آپ اپنے آپ کو منجمد کر رہے ہوتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم نے ورچوئل ایسٹ کی 2 بین الاقوامی کمپنیوں کو این او سی دیے ہیں، ہم نے کہا 5 ستمبر تک ورچوئل ایسٹ والے رجسٹریشن کرائیں ورنہ پابندی لگنا شروع ہو گی، پاکستان نے 5 ماہ میں یہ رجیم کھڑی کی ہے جو دنیا میں تیز ترین ہے، ریگولیشن میں بھارت سے آگے ہیں، پاکستان میں ورچوئل کا 250 بلین ڈالر کا حجم ہے،

پاکستان میں ورچول کا 10 سے 20 ارب ڈالرز پیسہ ہے، 40 سال سے کم عمر لوگ اسے استعمال کر رہے ہیں، انڈیا نے ورچول اثاثے پر 30 فیصد ٹیکس لگا دیا، ہم پاکستان میں ایسا نہیں کرنا چاہتے۔بلال بن ثاقب نے کہاکہ ورچول اثاثے پر کتنا ٹیکس لگائیں گے ہم اس پر غور کر رہے ہیں، زیادہ ٹیکس لگائیں گے تو لوگ آف شور چلے جائیں گے، جو لوگ سرمایہ کاری کرچکے ہم اسے ریگولیٹ کر رہے ہیں۔سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ لائسنس کے بغیر کرپٹو کرنسی کا کام نہیں کرسکیں گے، اس سے فراڈ ختم ہو جائے گا۔چیئرمین ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی نے کہاکہ ہم اب مستقل اسٹاف بھرتی کر رہے ہیں، سرکار کا صرف 8 فیصد بجٹ استعمال کیا، پاکستان کافائدہ ہے کہ 41 ارب ڈالرز زرمبادلہ ہمیں آتا ہے، ٹرانزیکشن رقم کم ہونے سے زرمبادلہ کا 2 ارب ڈالر ایکسٹرا پاکستان آئے گا، ہم زرمبادلہ کو اور سستے انداز سے پاکستان لانے پر غور کر رہے ہیں، اسٹیٹ بینک ہمارے بورڈ میں ہے، ان کے ساتھ ملکر دیکھ رہے کہ سستے انداز سے پیسہ کیسے لیکر آئیں، گرے مارکیٹ کو کیپچر کرنا چاہ رہے ہیں، اسلامک فنانس میں دنیا کے ورچول اثاثے میں لیڈر بننا چاہ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…