اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بجلی صارفین کے لیے ایک اور تشویشناک خبر سامنے آگئی، جولائی کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخ میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے بجلی کی قیمت بڑھانے کے لیے اپنی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرا دی ہے۔
سی پی پی اے نے اپنی درخواست میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 2 روپے 52 پیسے اضافے کی سفارش کی ہے۔ درخواست پر نیپرا میں آج سماعت ہوگی، جس کے دوران بجلی کی پیداوار اور ایندھن کے اخراجات سمیت متعلقہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے گا۔
دستاویزات کے مطابق جولائی کے دوران ڈیزل سے بجلی کی پیداوار پر فی یونٹ لاگت تقریباً 50 روپے رہی۔ اسی عرصے میں درآمدی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 54 روپے 47 پیسے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق درآمدی ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی فی یونٹ لاگت 47 روپے 37 پیسے رہی۔ سی پی پی اے نے انہی پیداواری اخراجات اور دیگر متعلقہ اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت نرخ بڑھانے کی درخواست کی ہے۔
نیپرا سماعت کے دوران سی پی پی اے کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار اور بجلی کی پیداوار پر آنے والے اخراجات کی جانچ کرے گا۔ ریگولیٹر کی جانب سے تفصیلی جائزے کے بعد ہی اضافے کی حتمی منظوری یا درخواست میں تبدیلی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل نیپرا جون 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 75 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے چکا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق ملک بھر کے صارفین، بشمول کے الیکٹرک کے صارفین، پر کیا گیا تھا، جبکہ اضافی رقم اگست کے بجلی بلوں میں وصول کی جانی تھی۔
نیپرا کے ریکارڈ کے مطابق جون میں بجلی کے حقیقی فیول چارجز 8 روپے 46 پیسے فی یونٹ رہے، جبکہ ریفرنس فیول چارج 7 روپے 71 پیسے فی یونٹ مقرر تھا۔ دونوں نرخوں کے درمیان فرق کی بنیاد پر ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا تعین کیا گیا تھا۔
اب جولائی کی ایڈجسٹمنٹ سے متعلق نیپرا کی سماعت کے بعد صورتحال واضح ہوگی کہ سی پی پی اے کی جانب سے مانگا گیا 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ اضافہ مکمل طور پر منظور ہوتا ہے یا اتھارٹی جائزے کے بعد اس میں کمی بیشی کرتی ہے۔



















































