جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پمز کے بعد اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتال پولی کلینک میں بھی فائر سیفٹی مکمل نہ ہونے کا انکشاف

datetime 28  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)پمز ہسپتال کے بعد اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتال پولی کلینک میں بھی فائر سیفٹی کے مکمل انتظامات نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے اور کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)فائر آڈٹ میں 34 فائر اور لائف سیفٹی خامیوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔

پولی کلینک کی آڈٹ رپورٹ میں مرکزی کچن کے قریب گیس لیکیج کی بھی نشان دہی کی گئی اور فوری اصلاح کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور بتایا گیا کہ پولی کلینک کے کئی اہم حصوں میں مناسب ایمرجنسی ایگزٹس ہی موجود نہیں، متعدد ایمرجنسی راستے بند یا رکاوٹوں کا شکار پائے گئے۔سی ڈی اے فائر آڈٹ میں بتایا گیا کہ پولی کلینک میں آٹومیٹک فائر ڈیٹیکشن اور مینوئل فائر الارم سسٹم موجود نہیں ہے، اسپتال میں اسپرنکلر، ہوز ریلز، ویٹ رائزر اور یارڈ ہائیڈرینٹ سسٹم بھی موجود نہیں۔رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ پولی کلینک میں فائر فائٹنگ کے لیے زیر زمین اور چھت پر مخصوص پانی کے ٹینک موجود نہیں، پولی کلینک کی بجلی کی وائرنگ انتہائی ناقص قرار دی گئی ہے۔آڈٹ میں رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی سی یو، سی سی یو اور این آئی سی یو کے مریضوں کے انخلا کے لیے مناسب انتظامات موجود نہیں، ایمرجنسی اور انخلا کا باقاعدہ پلان بھی موجود نہیں ہے۔سی ڈی اے نے بتایا کہ ایمرجنسی لائٹس، ایگزٹ سائنز اور اسمبلی ایریا کا مناسب انتظام نہیں اور انکشاف کیا گیا ہے کہ فائر سیفٹی ٹریننگ اور ابتدائی فائر فائٹنگ ٹیم بھی موجود نہیں ہے۔

رپورٹ میں پولی کلینک میں صفائی کے ناقص انتظامات اور سیڑھیوں پر نان سلپ پروٹیکشن نہ ہونے کی نشان دہی بھی کی گئی ہے، فائر بلینکٹ، حفاظتی سامان اور شیشوں کی اینٹی شٹر پروٹیکشن بھی موجود نہیں ہے، اسی طرح اسپتال کے اہم حصوں میں فائر کمپارٹمنٹیشن کا مناسب انتظام نہ ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔آڈٹ میں سی ڈی اے کی پولی کلینک میں تمام ایمرجنسی ایگزٹس فوری بحال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے گیس لیکیج اور غیر محفوظ بجلی کی وائرنگ فوری درست کرنے، پولی کلینک میں فائر الارم، ڈیٹیکشن اور فائر فائٹنگ سسٹمز ترجیحی بنیاد پر نصب کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔سی ڈی اے نے آڈٹ رپورٹ میں کہا کہ پولی کلینک کی فائر اور لائف سیفٹی خامیوں کی فوری اصلاح ناگزیر قرار ہے، پولی کلینک میں فائر سیفٹی خامیوں کی اصلاح کے بعد دوبارہ معائنہ کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…