پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

ایرانی سیمنٹ کی درآمد پاکستانی کوالٹی سرٹیفکیشن سے مشروط کرنے کا مطالبہ

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک ) آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررزایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) نے وزارت تجارت سے ایرانی سیمنٹ کی زمینی راستے سے درآمد معطل کرکے اس کی بحالی پی ایس کیوسی اے کی سرٹیفکیشن سے مشروط کی جائے۔وفاقی سیکریٹری تجارت محمد شہزاد کے نام خط میں آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررزایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) کے چیئرمین محمد علی ٹبا نے کہاکہ کسٹم حکام کے نوٹس میں لانے کے باوجود پاکستان میں زمینی راستے سے ایرانی سیمنٹ کی اسمگلنگ بلاتعطل جاری ہے، مزید برآں ایرانی سیمنٹ کا معیار پی ایس کیو سی اے کی جانب سے متعین کردہ معیار کے مطابق ٹیسٹ نہ ہونے کے باعث مشکوک ہے۔اسمگل شدہ سیمنٹ کا حجم دھیرے دھیر ے بڑھتے ہوئے خطرناک حد کو چھو چکا ہے اور روزانہ تقریباً 2ہزار ٹن ایرانی سیمنٹ پاکستان پہنچ رہی ہے، تفتان پوسٹ اور مند کسٹمز چیک پوسٹ کے ذریعے آنے والی سیمنٹ کی کھیپوں کو کسٹم حکام کی ملی بھگت سے قانونی کسٹم ڈیوٹی اور دیگر وفاقی لیویز کی ادائیگی کے بغیر آنے کی اجازت دی جا رہی ہے جو ٹوکن کے طور پر محدود مقدار پر یہ ڈیوٹیاں چارج کرتے ہیں جبکہ سیمنٹ کی بھاری مقدار قانونی اخراجات کی ادائیگی کے بغیر ہی جانے دی جاتی ہے۔خط میں کہا گیاکہ اس صورت حال کے نتیجے میں ایرانی سرحد سے منسلک علاقوں کی مقامی منڈیوں میں اور اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سستی ایرانی سیمنٹ کا سیلاب امڈ آیا ہے،نتیجتاً مقامی طور پر تیار کردہ سیمنٹ بڑی تیزی سے اپنی منڈی کھو رہی ہے اور ایرانی سیمنٹ کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں جو مقامی سیمنٹ کی نسبت 40 فیصد کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔ یہاں یہ ذکر بے جا نہ ہوگا کہ صنعت پہلے ہی پیداواری لاگت کی وجہ سے سنگین صورتحال سے دوچار ہے اور اب ایرانی سیمنٹ کی پاکستانی منڈی میں بھرمار نے مقامی مینوفیکچررز کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔محمد علی ٹبا نے کہا کہ سیمنٹ کی مقامی صنعت کو جو بالواسطہ اور بلاواسطہ 5 لاکھ خاندانوں کو روزگار فراہم کر رہی ہے، ایرانی سیمنٹ کے مقابلے میں تحفظ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف اس صنعت سے منسلک لاکھوں افراد پر مشتمل افرادی قوت کی ملازمتوں کو تحفظ حاصل ہو سکے بلکہ قیمتی زر مبادلہ کی بچت بھی ممکن ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…