جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف ، جو بائیڈن ملاقات، دورے کا اہم پہلو

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے اپنے 5 روزہ دورہ امریکا کے دوران امریکی نائب صدر جو بائیڈن سے ملاقات کرکے اپنے دورے کی اہمیت کو کئی گنا بڑھا دیا۔سینیئر امریکی حکام کے مطابق جنرل راحیل شریف نے جو بائیڈن سے وائٹ ہاو¿س کے ’روزویلٹ روم‘ میں ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اگرچہ سینیئر امریکی حکام کی جانب سے اس ملاقات کی نوعیت کے حوالے سے زیادہ وضاحت نہیں کی گئی، تاہم آرمی چیف کی جو بائیڈن سے ملاقات کی اپنی ہی اہمیت ہے۔کئی ممالک کے فوجی سربراہان آئے روز امریکا کا دورہ کرتے رہتے ہیں، لیکن ہر کسی کی امریکی نائب صدر جو بائیڈن اور سیکریٹری خارجہ جان کیری سے ملاقات نہیں ہوتی.امریکا کا دورہ کرنے والے بیشتر ممالک کے فوجی سربراہان اپنے ہم منصب، سیکریٹری دفاع سے ملاقات کے بعد ہی اپنے وطن واپس لوٹ جاتے ہیں، لیکن کسی فوجی سربراہ کی اعلیٰ امریکی سیاسی قیادت سے ملاقات بہت کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔بعض دفعہ امریکا کے دورے پر آئے ہوئے فوجی سربراہان امریکی قانون سازوں سے ملاقات کے لیے کیپیٹل ہل کا دورہ بھی کرتے ہیں، لیکن جنرل راحیل شریف کا ان سے خطاب بھی ایک غیر معمولی بات ہے۔جنرل راحیل شریف نے کیپیٹل ہل کے دورے کے دوران امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس اور آرمڈ سروسز کی کمیٹیوں سے خطاب کیا تھا۔اگرچہ دونوں کمیٹیوں نے آرمی چیف کے خطاب کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا، لیکن ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنی ٹوئیٹس میں آرمی چیف کے خطاب کی وضاحت کی۔انہوں نے اپنی ٹوئیٹس میں کہا کہ امریکی انٹیلی جنس کمیٹی کے دو ممبران سینیٹر رچرڈ بَر اور ڈیان فینسٹین کا کہنا تھا کہ پاک فوج کی کارروائیوں نے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔دونوں امریکی سینیٹرز نے انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے امریکا پاکستان کی حمایت اور تعاون جاری رکھے گا۔امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی جانب سے جنرل راحیل شریف کو مکمل پروٹوکول دیا گیا اور کمیٹی کے چیئرمین جان مک کین اور دیگر سینیئر کمیٹی ارکان نے ان کا استقبال کیا۔ایک علیحدہ بیان میں پینٹاگون کے پریس سیکریٹری پیٹر کک کا کہنا تھا کہ امریکی سیکریٹری دفاع ایشٹن کارٹر نے جنرل راحیل شریف سے ملاقات میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا معاملہ بھی اٹھایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…