جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

پاکستان اسٹیل سے متعلق فیصلہ جلدکیاجائے، ڈائریکٹرزبورڈ

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک ) پاکستان اسٹیل کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے وفاقی حکومت سے استدعا کی ہے کہ سنگین مالی، تکنیکی اور لاجسٹکس مسائل کا شکار پاکستان اسٹیل کو چلانے یا بند کرنے کا کوئی بھی فیصلہ جلد از جلد کیا جائے۔گزشتہ روز بورڈ آف ڈائریکٹر کے اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے بعد میڈیا کو جاری کردہ بیان بادی النظر میں ظاہر کرتا ہے کہ 1968میں کارپوریشن کے قیام 1973میں سنگ بنیاد رکھے جانے اور 1985سے پیداوار کا آغاز کرنے والے اس اسٹریٹجک اہمیت کے قومی ادارے کی موت واقع ہوچکی ہے اور بورڈ نے وفاقی حکومت سے تدفین کا اعلان کرنے کی درخواست کردی ہے۔
پاکستان اسٹیل کی معاشی اور اسٹریٹجک اہمیت سے واقف ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹیل کی پیداواری صلاحیت 3ملین ٹن تک بڑھانے کیلیے ڈیڑھ ارب ڈالر درکار تھے تاہم مختلف حکومتوں کی جانب سے پاکستان اسٹیل پر طبع آزمائی، سیاسی بھرتیوں، بدانتظامی اور کرپشن کے ذریعے اس اہم ترین ادارے کو بند کرنے پر 3.5ارب ڈالر ٹھکانے لگادیے گئے، پاکستان اسٹیل کے مجموعی خسارے اور واجبات کی مالیت 350ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔پیداوار کئی ماہ سے بند اور ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں، وفاقی حکومت 9ارب روپے مالیت کی انوینٹری کی فروخت سے تنخواہوں کی ادائیگی کا مشورہ دے چکی ہے۔ پاکستان اسٹیل کے معاملات سے واقفیت رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ اس اہم ترین ادارے کو جان بوجھ کر ان حالات تک پہنچایا گیا، سابقہ دور حکومت میں اس ادارے کو 200ارب روپے کا جھٹکا لگا جبکہ موجودہ دور میں 150ارب روپے کا ٹیکہ لگ چکا ہے۔حیرت انگیز طور پر منافع میں چلنے والے اس ادارے کو اس حالت تک پہنچانے کے ذمے دار عناصر کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لانا تو درکنار ان کو مورد الزام تک نہیں ٹھہرایا گیا۔ پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس بیان کے مطابق بورڈ نے اجلاس میں پاکستان اسٹیل کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہر گزرتے لمحے کو اہم ترین قرار دیا اور پہلی مرتبہ واضح انداز میں حکومت سے استفسار کیاکہ ”پاکستان اسٹیل کا آخر کرنا کیا ہے“ اسی طرح پیداوار بند رکھ کر چلانا ہے یا بند کرنا ہے کوئی بھی فیصلہ وقت ضائع کیے بغیر فوری کیا جائے۔بورڈ نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ ملازمین کو 3 ماہ کی تنخواہ فوری ادا کی جائیں، اگر ادارے کو چلانا مقصود ہوتو خام مال، گیس کی بحالی کیلیے سوئی سدرن گیس کی ادائیگیوں، ملازمین کی مزید چند ماہ تک کی تنخواہوں کیلیے 9.3ارب روپے جاری کیے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…