جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مسلم ممالک اختلافات بھلا کر انتہاپسندی کا مقابلہ کریں: امریکی اسکالر

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکہ میں مقیم ایک معروف مسلم اسکالر نے ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں پیرس میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’اسلام کی تعلیمات کے یکسر خلاف‘ قرار دیا ہے۔ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ داعش کے جنگجوؤں کا، جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور اسلام کے نام پر بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، بقول اُن کے، ’اسلام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ وہ اسلام کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں‘۔اُنھوں نے مزید کہا کہ ’دنیا بھر سے مسلمان علما، داعش کے خلاف فتوے دے چکے ہیں‘۔تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ اسلامی ملکوں کی تنظیم، ’او آئی سی‘ اور تمام مسلمان ممالک کو چاہیئے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، اسلام کے نام پر اس خون ریزی کو روکنے کے لیے آگے بڑھیں اور اپنا کردار ادا کریں۔اسی پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے، لندن سے مشرق وسطیٰ کے امور کے ایک ماہر، بیرسٹر امجد ملک کا کہنا تھا کہ ’یورپی ممالک کو داعش کو ایک سنگین خطرہ سمجھتے ہوئے ایک جامع ایکشن پلان بنانا چاہیئے‘۔اُنھوں نے کہا کہ ’حالیہ حملوں سے پتا چلتا ہے کہ داعش اب شام یا عراق تک محدود نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ پھیل رہا ہے، جس کو روکنا انتہائی ضروری ہے‘۔نیویارک سے ’کال فور ٹرانس نیشنل جہاد‘ کے مصنف، عارف جمال کا کہنا تھا کہ ’داعش دنیا کے لیے جتنا بڑا مسئلہ ہے، اس کو اس طرح نہیں لیا جا رہا ہے‘۔اُن کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں کو نہ صرف داعش بلکہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی انتہا پسند تنظیمیں میں موجود ہیں، اُن کے خلاف ایک مضبوط لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ، اُن کے بقول، ’تمام تنظیموں کے نظریات ایک جیسے ہیں‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…