جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پنجاب بھر میں پیرس طرز کے حملوں کا خطرہ ہے، محکمہ انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کا انتباہ

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لاہور(آن لائن)محکمہ انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے خبردار کیا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں پیرس طرز کے حملوں کا خطرہ ہے،دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر حساس مقامات اور سوشل میڈیا ویب سائٹس کی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی،جنوبی پنجاب میں لال مسجد سے ملحقہ مدرسہ سیل جبکہ مولانا عبد العزیز کی نقل وحرکت کی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے مطابق داعش پنجاب بھر میں پیرس طرز کے حملے کرسکتی ہے، تاہم بلدیاتی انتخابات کے دوران ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے ،محکمہ نے صوبے میں دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر حساس مقامات اور سوشل میڈیا ویب سائٹس کی کڑی نگرانی شروع کردی گئی ہے جس کی تفصیلات مناسب وقت پر میڈیا کے سامنے لائی جائیں گی۔حکام کے مطابق سکیورٹی کے پیش نظر جنوبی پنجاب میں طلبا کو مسلح تربیت دینے والا ایک مدرسہ بھی سیل کردیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق صوبائی سیکرٹری داخلہ میجر (ر) اعظم سلطان نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں سیل کیا گیا مدرسہ اسلام آباد کی لال مسجد سے الحاق شدہ تھا، جس کے خطیب مولانا عبد العزیز نے داعش سے بیعت کر رکھی ہے، انتظامیہ داعش کے حوالے سے مولانا عبد العزیز کے بیانات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور کڑی نگرانی کی جارہی ہے کہ داعش کہیں صوبے میں قدم نہ رکھ دے،انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ لال مسجد پنجاب حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں، لیکن صوبائی حکومت اس حوالے سے وفاقی انتظامیہ سے تعاون کر رہی ہے اور مدرسے سے دہشت گردی کے فروغ کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں،رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر پنجاب میں شام و عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم داعش کسی بھی صورت میں فعال نظر آئی تو صوبائی حکومت اس کے خلاف سخت ایکشن لے گی، اگر کسی مدرسے کے معلم یا کالج کے استاد پر بھی داعش کی معاونت کا شبہ ہوا تو انہیں بھی نہیں چھوڑا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ،راناثناءاللہ نے کہا کہ داعش کے خطرے کے پیش نظر صوبے کے سرائیکی بیلٹ میں واقع مدارس کی کڑی نگرانی شروع کردی گئی ہے،انہوں نے اعتراف کیا کہ دہشت گرد عناصر کے حوالے سے ترتیب دی گئی ’فورتھ شیڈول‘ لسٹ میں چند مدارس کے اساتذہ اور طالب علموں کے نام بھی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…