پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

لیدرمصنوعات تیاروبرآمدکرنیوالوں کے لیے جامع مراعاتی پیکیج متوقع

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وفاقی حکومت کی جانب سے لیدر گارمنٹس سمیت چمڑے کی دیگر مصنوعات کے مینوفیکچررز و برآمد کنندگان کے لیے جامع مراعاتی پیکج دیے جانے کا امکان ہے۔
اس ضمن میں ”ایکسپریس“ کو دستیاب دستاویزکے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر برآمدات کے فروغ کے لیے ہونے والے بین الوزارتی اجلاس میں لیدر سیکٹر کے لیے مرتب کی جانے والی سفارشات میں لیدر سیکٹر کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے مختلف مراعات دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
جبکہ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ بین الوزارتی اجلاس میں پاکستان لیدر گارمنٹس مینوفیکچررزاینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ لیدر گارمنٹس و چمڑے کی دیگر مصنوعات کی برا?مد پر مصنوعات کے معیارکی چیکنگ کے لیے ہونے والے مختلف نوعیت کے ٹیسٹوں پرا?نے والے اخراجات کا 75 فیصد ریفنڈ کی صورت میں برآمدکنندگان کو واپس کیا جائے اور برا?مد کنندگان کو یہ سہولت 2016-17 تک فراہم کی جائے۔
جبکہ گزشتہ مالی سال 2014-15 کے دوران اس مد میں آنے والے اخراجات کے کلیم وصول کرکے برا?مد کنندگان کو واجبات کی ادائیگی کی جائے جبکہ رواں مالی سال کے لیے ری ایمبرسمنٹ کی سہولت دی جائے جسے آئندہ مالی سال تک جاری رکھا جائے۔
دستاویز کے مطابق پاکستان لیدر گارمنٹس مینوفیکچررزاینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پاکستان کی لیدر گارمنٹس سمیت چمڑے کی دیگر مصنوعات کی برآمد کے لیے غیر ملکی خریدار مصنوعات کے معیاری ہونے کے لیے مختلف اقسام کے ٹیسٹ پر مبنی سرٹیفکیٹس مانگتے ہیں اور یہ ٹیسٹ اچھے خاصے مہنگے ہیں ان ٹیسٹوں پر اٹھنے والے اخراجات کے باعث پاکستانی لیدر مصنوعات بیرونی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کرپاتی ہیں۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل سال 2005 میں لیدر گارمنٹس و دیگر مصنوعات کے مینوفیکچررز کو برآمدی اشیا پر ٹیسٹوں پر ہونے والے اخراجات کا پچھتہر فیصد ریفنڈ کیا جاتا رہا ہے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ لیدر مصنوعات برآمد کرنے والے زیادہ تر اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ہیں اور ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اخراجات کا اتنا بوجھ برداشت کرسکیں۔
دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے لیدر مصنوعات کے مینوفیکچررز کو برآمدات پر مذکورہ ری ایمبرسمنٹ کی سہولت دینے پر اٹھارہ کروڑ روپے لاگت آئے گی اور اس سہولت کے تحت آمد کنندگان کو ان کی سالانہ برآمدات کے ایک فیصد تک لیب ٹیسٹوں کے اخراجات کی ری ایمبرسمنٹ کی مد میں ادائیگی کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…