پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پاکستان آسٹریلوی مہارت سے فائدہ اٹھاسکتاہے ،آسٹریلین ہائی کمشنر

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لاہو(نیوزڈیسک) آسٹریلیا کی ہائی کمشنر مارگریٹ ایڈمسن نے کہا ہے کہ آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان تجارتی و معاشی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کی بہت گنجائش ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشد اور نائب صدر ناصر سعید سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔ لاہور چیمبر کے سابق صدور میاں انجم نثار، محمد عی میاں اور ایگزیکٹو کمیٹی اراکین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ آسٹریلین ہائی کمشنر نے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کے بہترین دوستانہ تعلقات کی صحیح عکاسی نہیں کرتا لہذا دونوں ممالک کو تجارت بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ آسٹریلوی ہائی کمشنر نے کہا کہ پاور جنریشن، زراعت، لائیوسٹاک، کھیلوں کا سامان، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن وہ شعبے ہیں جن میں پاکستانی تاجر آسٹریلوی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ووکیشنل ٹریننگ کے شعبے میں آسٹریلوی مہارت سے فائدہ اٹھاسکتاہے کیونکہ آسٹریلیا کا یہ شعبہ دنیا بھر میں سب سے بہترین ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین تجارتی وفود کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں اطراف کو تجارتی مواقعوں کے بارے میں معلومات حاصل ہونگی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشد نے کہا کہ پاکستان دنیا میں کوئلے کے ذخائر رکھنے والا چوتھا بڑا ملک ہے جس کی وجہ سے توانائی کی پیداوار کے شعبے میں آسٹریلوی تاجروں کے لیے بہت پوٹینشل موجودہے ۔ اس کے علاوہ ایگری بزنس، تعلیم، آئل اینڈ گیس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کمیونیکیشن اور پراسیسڈ فوڈ کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں جن سے آسٹریلوی سرمایہ کاروں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن بدقسمتی سے بہت سی پیداوار پوسٹ ہارویسٹ ٹیکنالوجی نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی ایگروبیسڈ اور ڈیری انڈسٹری کو استحکام دینے کے لیے جدوجہد کررہا ہے۔ اس سلسلے میں آسٹریلیا کا تعاون پاکستان کے لیے بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر ناصر سعید نے کہا کہ ہارٹیکلچر، پراسیسنگ، پیکیجنگ، پھلوں اور سبزیوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کی بہت گنجائش موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سترہ کروڑ افراد پر مشتمل ایک بڑی مارکیٹ ہے جبکہ یہاں سستی مگر بہترین افرادی قوت دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت کے فروغ میں ایوان ہائے صنعت و تجارت اہم کردار ادا کرسکتے ہیںجبکہ نمائشیں اور میلہ جات بھی تجارت بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہیں لہذا دونوں ممالک کو اس جانب توجہ دینی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…