جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مذاکرات صرف با اختیار افراد سے ہوں گے، پاکستان نہیں جا رہا: براہمداغ بگٹی

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک)بلوچ رپبلکن پارٹی کے سربراہ اور جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے بلوچ رہنما براہمداغ بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن کے لیے مذاکرات پر اْن کی رائے جاننے کے لیے بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے جینوا میں اْن سے ملاقات کی ہے۔منگل کو بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں براہمداغ بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے وہ بات کرنے کو تیار ہیں لیکن بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔یاد رہے کہ رواں سال اگست میں بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں براہمداغ بگٹی نے بلوچستان کے مسئلے پر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بلوچ عوام چاہتے ہیں تو وہ آزاد بلوچستان کے مطالبے سے دستبرداری کے لیے تیار ہیں۔براہمداغ ماضی میں اس معاملے پر مذاکرات کی آپشن کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا موقف رہا ہے کہ ’بلوچستان کی آزادی تک جنگ رہے گی۔‘سوئٹزرلینڈ میں موجود براہمداغ نے کہا کہ اْن کے دادا نواب اکبر بگٹی نے بھی مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے ہیں لیکن ’جن کے پاس حالات بہتر کرنے کا اختیار ہے وہ آ کر بات کریں۔
دیکھئے شیریں مزاری کی بیٹی نے پی ٹی آئی کو کس طرح بدنام کر کے رکھ دیا
‘انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور وفاقی وزیر سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’اگر فوج اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اپنا ذہن بدل لیا ہے اور وہ بلوچستان میں آپریشن روک کر سیاسی طریقے سے مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں تو ہم بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘اگر فوج اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اپنا ذہن بدل لیا ہے اور وہ بلوچستان میں آپریشن روک کر سیاسی طریقے سے مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں تو ہم بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔مجھے نہیں لگتا کہ فوج کو بلوچوں سے مذاکرات میں دلچسپی ہے۔ مذاکرات کا اعلان کر کے وہ خود پھنس گئے ہیں۔براہمداغ بگٹی نے بلوچستان میں قیامِ امن کی کوششیوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ فوج کو بلوچوں سے مذاکرات میں دلچسپی ہے۔ مذاکرات کا اعلان کر کے وہ خود پھنس گئے ہیں۔‘جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے بلوچ رہنما براہمداغ بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن اْس وقت تک نہیں آ سکتا ہے جب تک مذاکرات کے لیے ماحول ساز گار نہ ہو اور ماحول ساز گار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آپریشن روکا جائے۔’ان حالات میں مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں جب بلوچوں کے خلاف فوجی آپریشن بھی جاری ہے، لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے اور آئے دن لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔‘پاکستان واپس جانے اور فوج اور اْن کے درمیان معاہدے کی خبروں کو براہمداغ نے مسترد کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت نے گذشتہ کچھ عرصے میں اْن سے ملاقات کی ہے لیکن فوج کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان نہیں جا رہے ہیں۔

مزید پڑھئیے:ذولفقار مرزا کے ایان علی اور آصف زرداری کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…