پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

حس مزاح میں تبدیلی دماغی خلل کی علامت ہے؟

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیڑھی حس مزاح، یا حسِ مزاح کے ٹیڑھ پن میں اضافہ ڈیمنشیا یا خلل دماغ کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے۔ڈیمینشیا ایسی بیماری ہے جس عام طور پر بڑھاپے میں لاحق ہوتی ہے اور اس کی عام علامات میں یادداشت کی کمزوری، شخصیت میں تبدیلی اور دماغی صلاحیت میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔
یونیورسٹی کالج لندن نے اس مطالعے میں ایسے مریضوں کو شامل کیا جو فرنٹوٹیمپورل ڈیمینشیا میں مبتلا تھے اور اس تحقیق کے نتائج جرنل آف ایلزہائمرز ڈیزیز میں شائع ہوئے ہیں۔
تحقیق کے دوران مریضوں کے اہل خانہ اور دوستوں سے جو سوالات کیے گئے ان میں سے 48 مریضوں کے لواحقین نے بتایا کہ مرض کی تشخیص سے بہت پہلے ہی ان کی حسِ مزاح میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی تھی۔اس میں المناک واقعات پر غیر مناسب طریقے سے ہنسنا شامل تھا۔ماہرین کا کہنا ہے اس سلسلے میں مزید مطالعے کی ضرورت ہے کہ حس مزاح میں کب اور کتنی تبدیلی آنے پر خلل دماغ کا شبہ کیا جائے۔خیال رہے کہ خلل دماغ کی بہت سی اقسام ہیں اور فرنٹوٹیمپورل خلل دماغ شاذ و نادر کے زمرے میں آتا ہے۔ڈاکٹر کلارک نے بتایا کہ المناک واقعات پر ہنسنا بھی اس مرض کی ایک علامت ہو سکتا ہے
اس میں دماغ کے جو حصے متاثر ہوتے ہیں وہ شخصیت اور عادات سے متعلق ہوتے ہیں اور اس کے مریضوں میں جھجھک ختم ہو جاتی ہے اور وہ زیادہ من موجی یا اضطرابی ہو جاتے ہیں اور انھیں سماجی حالات سے نمٹنے میں پریشانی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر کمیلا کلارک کا کہنا ہے کہ جب ان مریضوں کے رشتے داروں سے ان کی مزاح سے متعلق دلچسپیوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ انھیں کس قسم کا مزاح پسند ہے: مسٹر بِین جیسا، یس منسٹر جیسی طنزیہ کامیڈی یا مونٹی پائتھن کی ایبسرڈسٹ کامیڈی؟اس کے جواب میں 48 مریضوں کے رشتے داروں نے بتایا کہ مرض کی تشخیص سے تقریباً نو سال پہلے ان کی حسِ مزاح میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی تھی۔
بہت سے مریض المیہ صورت حال پر ہنسنے لگے تھے۔ ڈاکٹر کلارک نے کہا: ’یہ بہت واضح تبدیلی تھی، اور انتہائی غیر مناسب اور بےلطف۔ مثلاً ایک آدمی کی بیوی طرح جل گئی تو اس نے ہنسنا شروع کر دیا۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…