پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

سعودی عرب کا احسان اور ناراضگی،پروفیسر ساجد میر نے اصل وجہ سے پردہ اٹھادیا،حکومت کو اہم مشورہ

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک ) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان پروفیسر ساجد میرنے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے سعودی عرب کی سا لمیت کے دفاع کے اعلان کاخیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب آرمی چیف کے اس بیان کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتاہے ، آرمی چیف کے اس بیان سے یمن کے مسئلہ پر پاکستان اور سعودی عرب میں پیدا ہونے والی بداعتمادی کی فضا کو کم کرنے میں مدد ملے گی ۔ اتوا رکے روز مرکزی دفترمیں علما ءکے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی الشہاب مشقوں کی اختتامی تقریب سے خطاب کو سراہا جس میں انہوں نے سعودی عرب کی سالمیت اور خود مختاری کو خطرہ کی صورت میں بھرپور جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے عوام مضبوط مذہبی رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کے جغرافیائی اور نظریاتی نظریہ پرساتھ کھڑا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت اور عوام نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ زلزلہ ہو یا سیلاب سعودی عرب کی امداد سب سے پہلے پہنچی ہے۔ معیشت کو مستحکم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لئے سعودی عرب نے ہمیں ڈیڑھ ارب ڈالر بھی فراہم کئے تھے۔ پاکستان نے بھی ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کا ساتھ دیا ہے۔ لیکن یمن کے معاملے پر خلیج اتحاد میں شمولیت اختیار نہ کرنے پر سعودی عرب اور دوسری خلیجی ریاستیں ہم سے ناراض ہو گئی تھیں۔ جس کا خمیازہ ہم نے یو این انسانی حقوق کونسل میں ووٹنگ کے دوران بھگتا ہے۔ پروفیسر ساجد میرنے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اس ناسور کا ہم مل کرہی خاتمہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آرمی چیف کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت کو بھی چاہیے کہ سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے اقدام اٹھائے۔ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے ان ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…