اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب کا احسان اور ناراضگی،پروفیسر ساجد میر نے اصل وجہ سے پردہ اٹھادیا،حکومت کو اہم مشورہ

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک ) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان پروفیسر ساجد میرنے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے سعودی عرب کی سا لمیت کے دفاع کے اعلان کاخیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب آرمی چیف کے اس بیان کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتاہے ، آرمی چیف کے اس بیان سے یمن کے مسئلہ پر پاکستان اور سعودی عرب میں پیدا ہونے والی بداعتمادی کی فضا کو کم کرنے میں مدد ملے گی ۔ اتوا رکے روز مرکزی دفترمیں علما ءکے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی الشہاب مشقوں کی اختتامی تقریب سے خطاب کو سراہا جس میں انہوں نے سعودی عرب کی سالمیت اور خود مختاری کو خطرہ کی صورت میں بھرپور جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے عوام مضبوط مذہبی رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کے جغرافیائی اور نظریاتی نظریہ پرساتھ کھڑا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت اور عوام نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ زلزلہ ہو یا سیلاب سعودی عرب کی امداد سب سے پہلے پہنچی ہے۔ معیشت کو مستحکم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لئے سعودی عرب نے ہمیں ڈیڑھ ارب ڈالر بھی فراہم کئے تھے۔ پاکستان نے بھی ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کا ساتھ دیا ہے۔ لیکن یمن کے معاملے پر خلیج اتحاد میں شمولیت اختیار نہ کرنے پر سعودی عرب اور دوسری خلیجی ریاستیں ہم سے ناراض ہو گئی تھیں۔ جس کا خمیازہ ہم نے یو این انسانی حقوق کونسل میں ووٹنگ کے دوران بھگتا ہے۔ پروفیسر ساجد میرنے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اس ناسور کا ہم مل کرہی خاتمہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آرمی چیف کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت کو بھی چاہیے کہ سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے اقدام اٹھائے۔ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے ان ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…