لاہور (این این آئی) پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر کے قتل کیس میں اہم پیش رفت ،مزید اہم انکشافات سامنے آگئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق قتل کی واردات میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل مرکزی ملزم زمان عرف کگی بٹ کے بھائی شہزاد بٹ کے نام رجسٹرڈ تھی، شہزاد بٹ بھی اس وقت بیرون ملک ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم ارسلان دو شوٹرز کے ہمراہ سفید رنگ کی کرائے کی گاڑی پر لاہور پہنچا۔دونوں شوٹرز کو فردوس مارکیٹ سے موٹر سائیکل دی گئی اور لوکیشن بھی سمجھائی گئی، شوٹرز جعلی نمبر پلیٹ والی موٹر سائیکل پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور عبداللہ طاہر کو کلینک میں قتل کیا۔واردات کے بعد موٹر سائیکل سوار شوٹرز واپس فردوس مارکیٹ پہنچے جہاں سے ارسلان انہیں جعلی نمبر پلیٹ والی سفید رنگ کی گاڑی پر لیکر اسلام آباد روانہ ہوئے جبکہ ایک ملزم موٹر سائیکل لیکر اس کی نمبر پلیٹ دوبارہ اصل لگا کر واپس گوجرانوالہ پہنچا۔ملزمان نے ٹھوکر نیاز بیگ اور راوی ٹول پلازہ کے درمیان گاڑی سے جعلی نمبر پلیٹ اتاری اور اصل نمبر پلیٹ لگائی، ملزمان براستہ موٹروے لاہور سے اسلام آباد پہنچے، اسلام آباد پہنچ کر گاڑی کے مالک کو اسلام آباد سے گاڑی لے جانے کا کہا گیا۔تینوں ملزمان اسلام آباد سے ایک کرائے کی گاڑی پر وانا روانہ ہوئے، گاڑی اسلام آباد سے گوجرانولہ ایک کار واش سینٹر پہنچی تو لاہور سے سی سی ڈی ماڈل ٹائون کی ٹیم بھی وہاں پہنچ گئی، گاڑی دھونے والے سے پولیس گاڑی کے مالک تک پہنچی اور اسے حراست میں لیا گیا۔
وقوعہ میں استعمال ہونے والی گاڑی اور موٹر سائیکل سی سی ڈی ماڈل ٹائون پولیس کے قبضے میں ہے، پولیس کی 2خواتین سمیت دیگر زیر حراست افراد تفتیش جاری ہے، پولیس ذرائع نے کہا کہ ملزمان کی آخری لوکشن وزیرستان کے علاقہ گرباز کی آئی۔ذرائع نے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے سی سی ڈی ٹیم تاحال وزیرستان میں موجود ہے، شوٹرز اور ان کو لاہور لیکر آنے والا ملزم ارسلان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کوشش جاری ہے، شوٹرز سمیت کیس میں اب سارے کرداروں کی شناخت سامنے آچکی ہے۔پولیس ذرائع نے کہا کہ ہائی پروفائل کیس کی تفتیش ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ کی ہدایت پر ڈی ایس پی سی سی ڈی ماڈل ٹائون سید حسین حیدر کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں عبداللہ طاہر کے قتل کے معاملے میں ایک اور اہم پیشرفت ہوئی ہے اور پولیس نے عبداللہ طاہر کے ڈرائیور اصغر کو بھی حراست میں لے لیا ہے ۔عبداللہ طاہر کے ڈرائیور اصغر کا موبائل فون بھی قبضے میں لے لیا، پولیس ذرائع نے کہا کہ ڈرائیور اصغر نے دوران تفتیش لوکیشن اور عبداللہ طاہر کی مومومنٹ کی تمام معلومات ٹک ٹاکر کو دینے کا اعتراف کر لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ڈرائیور اصغر اور خاتون ٹک ٹاکر کی بالمشافہ تفتیش بھی کی گئی۔پولیس نے موقع پر ریکی کرنے والے ملزم ، گاڑی رینٹ پر دلوانے والے ملزمان کو بھی حراست میں لے لیا۔پولیس ذرائع نے کہا کہ قتل میں سہولت کاری کا کردار ادا کرنے والے ملزمان خواتین سمیت حراست میں ہیں، مرکزی شوٹرز اور اسکے دو ساتھی شوٹرز تاحال مفرور ہیں۔پولیس نے ملزمان سے مزید تفتیش شروع کر دی ہے اور مرکزی شوٹرز کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔



















































