منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

datetime 11  اگست‬‮  2026

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘ مرونڈا‘ گگو گھوڑے‘ پینگ اور دھوبن‘ مرونڈاپھولے ہوئے چاولوں میں گڑ ڈال کر بنایا جاتا تھا‘

یہ کیک پیس جیسا ہوتا تھا اور بہت خستہ اور لذیذ تھا‘ اس زمانے کے تمام بچے اور بعض اوقات بزرگ بھی اسے انجوائے کرتے تھے‘ سردیوں میں تلوں کی پنیاں بھی بکتی تھیں‘ یہ بھی گڑ سے بنائی جاتی تھیں اور عموماً بسوں کے اڈوں اور بسوں کے اندر سے ملتی تھیں‘ گگو گھوڑے مٹی کے چھوٹے سے جانور اورریڑھیاںہوتے تھے‘ یہ کمہار برتنوں کے ساتھ پکاتے تھے اور عموماً ان کی عورتیں اور بچے گلی میں آوازیں لگا کر بیچتے تھے‘ یہ پیسوں کے عوض بھی ملتے تھے اور چاولوں اور گندم کے بدلے میں بھی‘یہ بہت سستے ہوتے تھے‘ ان سے اوپر کی کوالٹی کاغذوں اور کانوں سے بنائی جاتی تھی‘

یہ رنگین اور دیرپا ہوتے تھے جب کہ مٹی کے گگو گھوڑے چند گھنٹوں میں ٹوٹ جاتے تھے‘ یہ آرٹ موہن جوڈاروسے چلا تھا اور چار ہزار سال کا سفر طے کر کے ہماری عمر تک پہنچا تھا۔ پینگیں(سوئنگ) درختوں سے رسیاں لٹکا کر بنائی جاتی تھیں‘ ان کی جگہ بعدازاں لوہے کے جھولے آ گئے‘ یہ گول ہوتے تھے‘ ان میں پانچ چھ چھوٹی سیٹیں لگی ہوتی تھیں اور انہیں گول گول گھمایا جاتا تھا‘ ان کے نیچے ٹائر لگے ہوتے تھے چناں چہ جھولے کا مالک اسے آسانی سے ایک گلی سے دوسری گلی لے جا سکتا تھا‘ یہ بھی آوازیں لگا کر بچوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا اور دھوبن ایک دوربین ٹائپ مشین ہوتی تھی‘ اس کے اندر فلم چلتی تھی‘ اس زمانے میں سینما کی موویز فلموں پر آتی تھیں‘ فلم رول کی شکل میں ہوتی تھی جو کیس میں آتی تھی‘ اسے ہر سینما میں پروجیکٹر پر لوڈ کیا جاتا تھا‘ یہ جھٹکے سے چلتی تھی‘ اس پر لائیٹ ڈالی جاتی تھی اور یوں وہ پردے پر دکھائی دیتی تھی‘ سینما سے جب فلمیں اتر جاتی تھیں تو اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے مارکیٹ میں بیچ دیے جاتے تھے‘

سٹریٹ پروجیکٹرز کے مالکان یہ خرید کر اسے گلی محلوں میں بچوں کو دکھاتے تھے‘ ہم شروع میں ایک آنا اور بعدازاں دو آنے دے کر یہ دیکھتے تھے‘ بچے دوربین سے آنکھ لگا کر گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ جاتے تھے‘ پروجیکٹر کا مالک ہاتھ سے ناب گھماتا تھا اور اندر پردے پر فلم چلنے لگتی تھی‘ یہ ہاتھ کی سپیڈ کی وجہ سے کبھی تیز اور کبھی آہستہ ہو جاتی تھی‘ وہ ساتھ ساتھ کمنٹری بھی کرتا جاتا تھا‘کمنٹری عموماً دیکھو ’’دس من کی دھوبن‘‘ ہوتی تھی جس میں وہ کبھی کبھی کسی مقبول گانے کے بند بھی شامل کر دیتا تھا‘ ہم اسے بھی اناج اور ریز گاری دیتے تھے‘ یہ 1971ء تھا‘ اس زمانے میں رقم آنوں اور روپوں میں ہوتی تھی‘ آنا سب سے چھوٹا ہوتا تھا‘ چونی روپے کا چوتھا حصہ ہوتی تھی جب کہ اٹھنی آدھا روپیہ تھا اور اس کے بعد روپے کا نوٹ تھا‘ اس کا سائز بڑا تھا اور اس پر بنگالی زبان میں بھی روپیہ لکھا ہوتا تھا‘ نوٹ بلیک اینڈ وائیٹ اور کھردرا ہوتا تھا‘ اسے گننے والوں بالخصوص بینکوں کے کیشیئرز کی شہادت کی انگلی سے ابھار گھس کر ختم ہو جاتے تھے‘ زیادہ تر خریداری سکوں سے ہوتی تھی‘ یہ وزنی ہوتے تھے‘ ان کے وزن سے لوگوں کی جیبیں پھٹ جاتی تھیں چناں چہ جیبوں کی ری پیئرنگ معمول ہوتا تھا‘ درزیوں کے پاس روزانہ درجنوں جیبیں ری پیئرنگ کے لیے آتی تھیں‘ میرے والد کے پاس سکوں کا باقاعدہ تھیلا ہوتا تھا‘ وہ اسے کندھے پر رکھ کر دکان پر جاتے تھے‘ اٹھا کر واپس لاتے تھے اور اپنے سرہانے رکھ کر سوتے تھے‘ وہ تھیلے کو چار چار گرہیں لگاتے تھے لیکن والدہ اس کے باوجود تھیلے سے سکے نکال لیتی تھیں اور میں بعدازاں ’’چوری شدہ‘‘ سکوں کا مرونڈا کھاتا تھا‘ والد کی آخری عمر میں والدہ ان سے اکثر اپنی ’’چوریوں‘‘ پر معافی مانگتی تھیں اور وہ بیماری کی حالت میں بھی قہقہے لگانے پر مجبور ہو جاتے تھے‘ ان کا کہنا تھا ’’تم اگر یہ چوریاں نہ کرتی تو میں اپنا محل بنا لیتا‘‘۔ والد نے میجر مچھڑ کی مدد سے اس زمانے میں بے تحاشا پیسہ کمایا‘ انہیں نوٹ گننے اور چارپائی پر نوٹوں کی قطاریں لگانے کا بہت شوق تھا‘ والد اور میرا چچا روز نوٹوں اور سکوں کی تھیلیاں لے کر آتے تھے اور دونوں اندر سے کنڈی لگا کر نوٹ گنتے تھے‘ وہ آخر میں نوٹوں کی ’’دتھیاں‘‘(پیکٹ) چارپائی پر پھیلادیتے تھے اور پھر بچوں کی طرح خوش ہوتے تھے‘ میرے والد نے جوانی میں اتنے نوٹ گنے کہ ان کی شہادت کی انگلی کے ابھار ختم ہو گئے تھے اور انہیں ہمیشہ ’’بائیو میٹرک‘‘ کے لیے مسائل کا سامنا کرنا پڑا بالخصوص ہمیں ویزوں کے لیے ان کی انگلی بار بار سکینر پر رکھوانی پڑتی تھی۔

￿ہمارے زمانے میں نلکے اور موٹریں نہیں ہوتی تھیں‘ پانی کا واحد سورس کنوئیں تھے‘ امیر لوگوں کے صحنوں میں اپنے کنوئیں ہوتے تھے جب کہ مڈل کلاس اور غریب لوگ دوسروں کے کنوئوں سے پانی بھر کر لاتے تھے‘ ہم کرائے کے مکان میں رہتے تھے لیکن اس میں کنواں موجود تھا‘ وہ مکان دو بھائیوں کا تھا‘ وہ جب تقسیم ہوا تو کنوئیں کے دائیں بائیں دیوار کھینچ دی گئی یوں گھر دو حصوں میں بٹ گیا لیکن کنواں مشترکہ رہا‘ وہ سائز میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے ’’کھوئی‘‘ کہلاتا تھا‘ ہمارے ہمسائے بھی اس کنوئیں سے پانی بھرتے تھے‘ میری والدہ اور ہمسائی (جسے میں ’’بھوا‘‘ کہتا تھا) دونوں گھنٹوں کھوئی پر کھڑی ہو کر سارے شہر کی غیبتیں کرتی تھیں‘ یہ ان دونوں کی واحد انٹرٹینمنٹ تھی۔ ’’بھوا‘‘ کا خاوند تانگہ چلاتا تھا اور شرابی تھا لہٰذا اس کے گھر کا ماحول اچھا نہیں تھا۔ غربت بھی تھی‘ وہ ہم سے اکثر آٹا اور سالن مانگتی رہتی تھی‘ وہ دن میں دو تین مرتبہ کھوئی پر کھڑی ہو کر ’’چودھرین‘‘ کا نعرہ لگا کر والدہ کو بلاتی اور پھر دیر تک اپنے دکھڑے سناتی رہتی تھی اور میری ماں ہاتھ پر لگا آٹا مسل مسل کر کنوئیں میں گراتی رہتی اور اس کی لایعنی باتیں سنتی رہتی‘ والدہ کا خیال تھا آٹا زمین پر گرانا گناہ ہے لہٰذا وہ اسے کھوئی میں گراتی تھیں یا پھر دوپٹے کے پلو میں سنبھالتی رہتی تھیں‘ شہر میں اس زمانے میں ’’ماشکی‘‘ ہوتے تھے‘ وہ پانی کی سپلائی کا دھندہ کرتے تھے‘ ان کے پاس چمڑے کی مشکیں ہوتی تھیں‘ وہ ان میں پانی بھرتے تھے اور پھر کندھے پر رکھ کر مختلف گھروں اور دکانوں پر سپلائی کرتے تھے‘ ہر گھر میں مٹی کے گھڑے ہوتے تھے‘ یہ لکڑی کے سٹینڈز پر لگے ہوتے تھے‘ پینے کا پانی ان میں سٹور کیا جاتا تھا‘ والدہ گھڑے کی گردن پر موتیے اور گلاب کے ہار ڈال دیتی تھی جس کی وجہ سے پانی سے خوشبو آتی رہتی تھی‘ گھڑے کے اوپر آنسو جیسے قطرے آتے رہتے تھے جنہیں میں کھینچ کر لکیریں بناتا تھا اور خوش ہوتا تھا‘ نلکے اور موٹریں آنے کے بعد ماشکیوں کی پوری صنعت ختم ہو گئی‘ مجھے پچھلے دنوں ایک دوست کے گھر میں مشک دیکھنے کا اتفاق ہوا اور میں بڑی دیر تک اسے حیرت سے دیکھتا رہا‘ دوست نے اسے دیوار پر لٹکا رکھا تھا‘ اس پر چمڑے کے چھوٹے چھوٹے پیچ بھی تھے‘ مشکوں میں اگر زیادہ دنوں تک پانی نہیں بھرا جاتا تھا تو یہ خشک ہو جاتی تھیں جس کے بعد ان کا چمڑہ پھٹ جاتا تھا‘ ماشکی انہیں موچی کے پاس لے جاتے تھے اور وہ ان پر چمڑے کا پیوند (پیچ) لگا دیتا تھا‘ نلکے اور موٹریں آنے سے پانی کی فراوانی ہو گئی لیکن یہ ضائع بھی ہونے لگا‘ لوگ پہلے کنوئوں سے صرف اتنا پانی نکالتے تھے جتنی ان کو ضرورت ہوتی تھی یوں زیر زمین پانی ’’ری چارج‘‘ ہوتا رہتا تھا لیکن نلکوں اور موٹروں کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ پانی نکالا جانے لگا جس کے نتیجے میں آج پانی کی شدید قلت ہو چکی ہے۔

ہمارے زمانے میں تانگے ٹرانسپورٹ کا سب سے بڑا ذریعہ تھے‘ تانگوں کی پوری صنعت تھی‘ یہ باقاعدہ ورکشاپوں میں بنتے تھے‘ ہر شہر میں گھوڑوں کی منڈیاں ہوتی تھیں‘ گھوڑوں کے طویلے بھی عام تھے‘ گھوڑوں کے پائوں کو سڑک کی گرمی اور سختی سے بچانے کے لیے ان میں نعل اور کھریاں لگائی جاتی تھیں‘ اس کی بھی باقاعدہ صنعت تھی‘ لوہار نعل اور کھریاں بناتے تھے‘ یہ بعدازاں فیکٹریوں سے بھی بن کر آنے لگیں‘ آج جس طرح جگہ جگہ ٹائرز شاپس ہیں اس زمانے میں اسی طرح نعل لگانے والوں کے ’’ٹھیے‘‘ اور دکانیں ہوتی تھیں‘ تانگے والے آتے تھے اور نعل لگانے والے بڑے نخرے سے گھوڑے کے ’’کھر‘‘ سے گھسی ہوئی نعل اتار کر نئی لگا دیتے تھے‘ نعلیں کیلوں سے لگائی جاتی تھیں اور انہیں باقاعدہ ہتھوڑی سے ٹھونکا جاتا تھا‘ ہر شہر میں درجنوں تانگہ سٹینڈز ہوتے تھے اور تانگے والے باقاعدہ آواز لگا کر سواریوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے تھے‘ ہر سواری کو فی کس کے لحاظ سے ادائیگی کرنی پڑتی تھی‘ خواتین پچھلی سیٹ جب کہ مرد آگے بیٹھتے تھے‘ خواتین بچوں کو جھولی میں گھسیٹ لیتی تھیں یا انہیں اپنے پائوں میں بیٹھا لیتی تھیں اور وہ پائیدان (لوہے کی وہ سیڑھی جس پر پائوں رکھ کر تانگے میں سوار ہوا جاتا تھا) پر پائوں رکھ کر سواری کو انجوائے کرتے تھے‘ تانگے والے کی خواتین سے ہر بار یہ بحث ہوتی تھی میری بہن یہ بچہ نہیں ہے اس کا پورا کرایہ ہو گا جب کہ عورتیں تیرہ چودہ سال کے لڑکے کو پانچ سال کا بچہ ثابت کرنے میں جت جاتی تھیں اور آخر میں بات آدھے کرائے پر فائنل ہو جاتی تھی‘

تانگے کی دونوں سائیڈز پر دو بانس ہوتے تھے‘ گھوڑا ان کے درمیان ’’فکس‘‘ کیا جاتا تھا‘ بانس کے آخر میں لوہے کا کور ہوتا تھا جس کی چونچ نکلی ہوتی تھی‘ یہ ’’بمب‘‘ کہلاتا تھا اور اس کی زد میں آ کر ہر سال سینکڑوں لوگ مارے جاتے تھے‘ تانگہ بان عموماً بانس پر بیٹھ کر ’’ہٹ پرے‘‘ کی آوازیں لگاتا تھا‘وہ ’’او مرجانیا‘‘ اور ’’تیرے کھسم مریں‘‘کی آوازیں نکال کر گھوڑے کی سپیڈ بھی تیز کرتا رہتا تھا‘ اس کے ہاتھ میں چمڑے کا ’’چھانٹا‘‘ (چابک) ہوتا تھا‘یہ اس سے بھی گھوڑے کی سپیڈ بڑھاتا رہتا تھا‘ گھوڑے کو ’’ڈی فوکس‘‘ ہونے سے بچانے کے لیے اس کی آنکھوں پر چمڑے کے شیڈ چڑھا دیے جاتے تھے‘ یہ کھوپے کہلاتے تھے‘ لوگ عینک کو بھی کھوپے کہتے تھے اور جن کی آنکھیں جلد خراب ہو جاتی تھیں لوگ انہیں ’’کھوپے لا کے پھر ریاں‘‘ یا ’’اوئے کھوپے آلے‘‘ کہہ کر پکارتے تھے‘ پورا تانگہ منگوانا عیاشی اور امارت کی نشانی ہوتا تھا‘ اسے سالم تانگہ کہا جاتا تھا جب کہ لوگوں کی امارت کا اندازہ ان کے ذاتی تانگوں‘ بگھی یا پھر کوچوانوں کی تعداد سے لگایا جاتا تھا‘ جتنے زیادہ کوچوان اور جتنے تانگے سیٹھ صاحب اتنے ہی امیر‘ کھاریاں شہر میں اس زمانے میں ایک بھی پٹرول پمپ نہیں تھا لیکن گھوڑوں کے چارے اور پھک کی دکانیں جگہ جگہ تھیں‘ شہر میں گھوڑوں کے درجن بھر ڈاکٹرز بھی تھے‘ وہ لمبی سرنج میں سرخ رنگ کی دواء بھر کر گھوڑے کی پشت پر لگاتے تھے اور گھوڑا اچھل کود کے ذریعے اس رویے پر شدید احتجاج کیا کرتا تھا (جاری ہے)۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…