ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی

datetime 8  اگست‬‮  2026 |
Summer Vacations in Punjab

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پنجاب میں تعلیمی اداروں کی موسم گرما کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھائے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اطلاعات کو صوبائی حکومت نے مسترد کردیا ہے۔

گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ مون سون بارشوں اور سیلاب کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر پنجاب کے اسکولوں میں تعطیلات مزید بڑھائی جا سکتی ہیں اور تعلیمی ادارے 31 اگست تک بند رہیں گے۔

صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ان اطلاعات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکولوں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی نیا نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیا گیا۔

حکومت نے والدین اور طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے کے بجائے تعلیمی اداروں سے متعلق صرف سرکاری اعلانات کو معتبر سمجھیں۔

24 اگست سے تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز

صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق پنجاب کے اسکول 24 اگست سے پہلے نہیں کھولے جائیں گے۔ موجودہ شیڈول کے تحت موسم گرما کی تعطیلات 24 اگست تک جاری رہیں گی اور اس کے بعد تعلیمی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہوگا۔

طلبہ کے تعلیمی نقصان کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے تعطیلات کے دوران ایک ماہ پر مشتمل ’’ریمیڈیل لرننگ کیمپس‘‘ منعقد کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔ ان کیمپس کا مقصد طلبہ کو تعلیمی خلا پورا کرنے اور نئے تعلیمی سال کے لیے بہتر تیاری میں مدد فراہم کرنا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث پنجاب میں موسم گرما کی تعطیلات 31 اگست تک بڑھائی گئی تھیں۔ اسی پس منظر میں رواں سال بھی سوشل میڈیا پر تعطیلات میں ممکنہ توسیع کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم صوبائی حکومت نے فی الحال ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اس لیے موجودہ سرکاری مؤقف کے مطابق پنجاب میں تعلیمی اداروں کی تعطیلات 31 اگست تک بڑھانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور موجودہ شیڈول کے تحت اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں 24 اگست 2026 سے بحال ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…