لاہور (این این آئی) کینٹ کچہری لاہور نے ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی کیس میں گرفتار معطل پولیس اے ایس آئی کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ارم یوسف کی عدالت میں معطل ملزم اے ایس آئی عمران کو پیش کیا گیا۔ تھانہ غازی آباد کے پولیس نے ملزم اے ایس آئی کو پیش کیا۔تفتیشی افسر نے موقف اپنایا کہ ملزم سے لڑکی سے زیادتی کی تفصیلات جاننا ہے، اس لیے ملزم کو 14روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا جائے۔عدالت نے ملزم کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔واضح رہے کہ ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے معاملے پر ایس ایچ او غازی آباد سمیت تھانے کے پورے عملے کو کارروائی میں تاخیر اور افسران کو لاعلم رکھنے پر معطل کر دیا گیا تھا۔اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی اور تھانہ معطلی کی اندرونی کہانی میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بھکاری لڑکی کو تھانہ غازی آباد کے اندر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اے ایس آئی عمران موٹر سائیکل پر بٹھا کر لڑکی کو تھانہ غازی آباد لایا۔گیٹ ڈیوٹی پر تعینات سنتری نے اے ایس آئی سے خاتون سے متعلق دریافت کیا، جس پر اے ایس آئی عمران نے جواب دیا کہ ملزمہ ہے اور تفتیش کے لیے لایا ہوں، اے ایس آئی عمران لڑکی کو انویسٹی گیشن روم میں لے کر گیا اور زیادتی کر ڈالی۔
پولیس کے مطابق زیادتی کے بعد لڑکی کو خود واپس چھوڑ کر آیا، ورثاء لڑکی کے اغواء کی درخواست دینے تھانے گئے اور اسی دوران ورثاء کو گھر سے فون آیا کہ لڑکی واپس آگئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ذہنی معذور لڑکی سے اے ایس آئی کے زیادتی کرنے کے معاملے کی مزید اندرونی کہانی بھی سامنے آگئی ہے۔ذرائع نے دعوی کیا کہ ملزم گھر والوں کو پیسوں کی آفر بھی کرواتا رہا، تھانہ میں موجود پیٹی بھائی اس کے ساتھ گھر والوں پر دبائو ڈالتے رہے۔ذرائع نے کہا کہ ملزم اے ایس آئی عمران نے تھانے کے کمرے میں لے جا کر پہلے دودھ پلایا اور پکوڑے کھلائے، اس کے بعد لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ملزم زیادتی کے بعد جب خود واپس چھوڑنے جارہا تھا تو اس وقت بھی سنتری نے دوبارہ پوچھا عمران صاحب تفتیش ہو گئی ہے؟ جس پر اے ایس آئی نے بتایا کہ دو تین سوال پوچھنے تھے، اس نے بتا دیئے ہیں۔
اس کے بعد ملزم اے ایس آئی لڑکی کو اس کے گھر چھوڑ آیا، ملزم کی اسپیشل رپورٹ بنانے کے بعد ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا۔ڈی آئی جی انویسٹی سید ذیشان رضا نے واقع کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ ناقص سپرویزن پر انچارج انویسٹی گیشن تھانہ غازی آباد کو بھی معطل کلوز انویسٹی گیشن ہیڈکوارٹر کے احکامات جاری کر دئیے گئے، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے ہدایت کی ہے کہ واقعہ کی شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر تفتیش کی جائے۔تفتیشی ذرائع نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔



















































